
لاہور (22 جنوری 2026) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں گل پلازہ واقعے کے بعد صوبہ بھر میں فائر سیفٹی کے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں صوبے کی تمام مارکیٹوں، عمارتوں، سکولوں اور ہائی رائز بلڈنگز کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے فائر سیفٹی کے حفاظتی ضوابط مکمل کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دے دی ہے اور بلڈنگ سیفٹی ایکٹ پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ:
- تمام عمارتوں میں داخلی اور خارجی راستے ہر وقت کلیئر رکھنا لازم ہے۔
- حفاظتی سائن ایج درست اور واضح ہونا ضروری قرار دیا گیا۔
- ریسکیو 1122 کی نشاندہی پر جیو ٹیگڈ مقامات پر واٹر فائر ہائیڈرینٹس کی تنصیب یقینی بنائی جائے گی۔
- ریسکیو 1122 کو تھرمل اور دیگر جدید ڈرونز سمیت جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا۔
- دو ہفتوں میں تمام عمارتوں میں ایکسٹرنل فائر ہائیڈرینٹس نصب کیے جائیں گے۔
- پیرا فورس کو خصوصی اختیارات تفویض کر کے خصوصی سیل قائم کی جائے گی۔
- تمام صنعتی اداروں کے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی۔
- ریسکیو 1122 سروسز اسی سال پنجاب کی تمام تحصیلوں میں متعارف کرائی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمارتوں میں آتشزدگی سے نمٹنے کے لیے ہمت کے ساتھ حکمت اور ٹیکنالوجی بھی ضروری ہے۔ عوام کی زندگی سے کھیلنے والوں کی پنجاب میں کوئی جگہ نہیں۔ ہر تحصیل، ہر مارکیٹ، ہر بلڈنگ، ہر سکول اور ہر ہائی رائز اب مکمل محفوظ ہوگا۔
یہ فیصلہ گل پلازہ واقعے کے بعد فائر سیفٹی کے حوالے سے صوبائی حکومت کا سب سے بڑا اور جامع اقدام ہے، جس سے عوام کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔






