گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے معیشت مفلوج؛ صنعتیں بند ہونے کے قریب، اربوں روپے کا روزانہ نقصان، زرمبادلہ ذخائر پر شدید دباؤ

کراچی (16 دسمبر 2025، رات 9:17) 8 دسمبر سے جاری گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال نے ملک کی سپلائی چین کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے، جس سے صنعتیں بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں اور اربوں روپے کا روزانہ نقصان ہو رہا ہے۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر ریحان حنیف نے 25 رکنی ٹرانسپورٹرز وفد کے ساتھ اجلاس کے بعد خبردار کیا کہ ہڑتال جاری رہی تو کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو جائیں گی اور ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ بندرگاہوں پر کنٹینرز پھنس گئے، فیکٹریوں میں خام مال کی سپلائی رک گئی اور تیار مال مارکیٹس تک نہیں پہنچ رہا، جس سے برآمدات شدید متاثر ہو رہی ہیں اور زرمبادلہ ذخائر پر منفی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ریحان حنیف نے کہا کہ ہر گزرتا دن اربوں روپے کے نقصان کا باعث بن رہا ہے، اور موجودہ خراب معاشی صورتحال میں ملک طویل ہڑتالوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے، ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات سننے اور ہڑتال ختم کرانے کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ قومی مفاد میں یہ ہڑتال کا فوری خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ان کے مسائل (جیسے ایکسل لوڈ، ٹول ٹیکس اور دیگر پابندیاں) حل نہ ہوئے تو ہڑتال جاری رہے گی۔

یہ ہڑتال نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک کی صنعتوں، برآمدات اور روزمرہ سپلائی کو متاثر کر رہی ہے، اور اگر جلد حل نہ نکالا گیا تو 2026 کے آغاز میں معاشی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔