یاسیت: ایک سنگین طبی عارضہ، معاشرتی مفروضات اور غلط فہمیاں مریضوں کی بربادی کا باعث

70 فیصد مریض دواؤں سے صحت یاب، تھراپی اور ورزش سے مزاج بہتر

یاسیت، جسے انگریزی میں ڈپریشن کہا جاتا ہے، ایک ایسا سنگین عارضہ ہے جس میں مبتلا شخص زندگی سے اس قدر مایوس ہو جاتا ہے کہ خودکشی تک کا سوچنے لگتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سید امجد علی جعفری کے مطابق، ایسے افراد کو لگتا ہے کہ زندگی میں کچھ بھی اچھا یا خوشگوار ممکن نہیں۔ ہمارے معاشرے میں یاسیت سے متعلق کئی مفروضات، غلط فہمیاں اور توہمات رائج ہیں، جو مریضوں کو ابتدائی مرحلے میں مستند معالج سے دور رکھتی ہیں، اور جب علاج کی جائے تو کافی تاخیر ہو چکی ہوتی ہے۔ ذیل میں چند اہم مفروضات اور حقائق بیان کیے جا رہے ہیں تاکہ یاسیت کے شکار افراد بروقت علاج حاصل کر سکیں اور صحت مند زندگی گزار سکیں۔

سخت محنت سے یاسیت کا علاج ہونے کا مفروضہ بالکل غلط ہے۔ ہر چھ میں سے ایک شخص کو زندگی میں یاسیت کا سامنا ہوتا ہے، جو اکثر اپنی صلاحیت سے زیادہ کام کرنے کی وجہ سے طاری ہوتی ہے۔ یاسیت کوئی معمولی بات نہیں بلکہ ایک سنگین طبی حالت ہے، جو موروثی عوامل، ہارمونز کا عدم توازن، دماغی خلیات اور اعصابی نظام کی خرابی سے پیدا ہوتی ہے۔ ڈپریشن کے مریض اپنی کیفیات چھپاتے ہیں، جس کی وجہ سے اہل خانہ، دوست اور حتیٰ کہ ڈاکٹر بھی تشخیص نہ کر سکیں۔ خاص طور پر مرد اپنے جذبات کو چھپاتے ہیں، مگر ان کے رویے میں بے چینی، غصہ، چڑچڑا پن اور طنز کا رجحان نمایاں ہوتا ہے۔ وہ نشہ آور اشیاء یا الکوحل کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، کام میں لاپرواہی کرتے ہیں، اور پہلے لطف اندوز ہونے والی سرگرمیوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ شدت اختیار کرنے پر کمرے تک محدود ہو جاتے ہیں، سماجی تعلقات ختم کر دیتے ہیں، نیند اور بھوک کی عادات بگڑ جاتی ہیں، ذاتی صفائی سے غافل رہتے ہیں، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے، خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے، اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ ایسی علامات دیکھیں تو فوری مستند معالج سے رجوع کریں۔

یاسیت کے مریض خود پر ہمیشہ ترس کھاتے ہیں، یہ بھی مفروضہ ہے۔ دماغی خلیات میں تبدیلیاں اس کی وجہ ہوتی ہیں، جو درست علاج سے ٹھیک ہو جاتی ہیں۔ یہ مرض کسی بھی نسل، ذات، طبقے یا عمر کے شخص کو نشانہ بنا سکتا ہے، البتہ خواتین میں مردوں سے دوگنا زیادہ پایا جاتا ہے۔ بعض اوقات صدمے یا حادثے سے بھی یہ عارضہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ ڈپریشن والے افراد چیخ و پکار نہیں کرتے بلکہ جذبات سے خالی محسوس کرتے ہیں، خود کو بے کار سمجھتے ہیں، اور خاندان پر بوجھ نہیں بننے دیتے۔ یاسیت موروثی بھی ہو سکتی ہے، اس لیے فیملی ہسٹری میں موجود ہو تو ہلکی ورزش، ذہنی دباؤ پر قابو، اور ماہر نفسیات یا سائیکاٹرسٹ سے رجوع کریں۔ مریض سے بات کرنے سے تکلیف بڑھنے کا خیال غلط ہے؛ ماہر سے گفتگو اور تھراپی ڈپریشن کم کرتی ہے۔ اگر دوا تجویز ہو تو باقاعدگی سے لیں۔ مثبت سوچ اور Cognitive Behavioral Therapy (CBT) سے متوازن سوچ ملتی ہے، جو نئی زندگی کا آغاز کرتی ہے۔

نو عمر لڑکوں لڑکیوں میں طویل اداسی، مایوسی، چڑچڑا پن یا متلون مزاجی کو معمولی نہ سمجھیں؛ دو ہفتے سے زیادہ رہے تو یاسیت کی علامت ہے۔ ہر گیارہ میں سے ایک نو عمر اس کا شکار ہوتا ہے، جس میں علمی گریڈز کی کمی، کھیلوں سے دوری اور سماجی حالات سے منفی ردعمل شامل ہوتا ہے۔ روزانہ ہلکی ورزش بہترین دوا ہے، جو شدید کیسز میں دوا کے ساتھ مل کر مزاج بہتر کرتی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کی تحقیق بتاتی ہے کہ 70 فیصد مریض دواؤں سے صحت یاب ہوتے ہیں، باقی کو تھراپی کی ضرورت پڑتی ہے۔ زندگی کے واقعات جیسے طلاق یا نوکری ختم ہونے سے غم ہونا عام ہے، مگر یہ یاسیت نہیں۔ ناامیدی بیماری کا حصہ ہے، جو ماہر علاج سے مثبت سوچ، پرسکون نیند، بھوک اور دباؤ سے نبرد آزمائی میں بدل جاتی ہے، اور مزاج مستحکم ہو جاتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *