زائد گوشت خوری سے بچیں

انسانی تہذیب کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ ہر دور میں سبزیاں انسانی غذا کا بنیادی جزو رہی ہیں، جو فطری اور پسندیدہ تھیں۔ آج بھی عالمی سطح پر بڑی تعداد میں لوگ سبزی خور ہیں، مگر حالیہ دہائیوں میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں گوشت کی کھپت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ گوشت طاقت کا خزانہ اور اعلیٰ غذائی عنصر ہے، جو جزوی طور پر درست ہے کیونکہ یہ پروٹین سے مالا مال ہوتا ہے۔ تاہم، اس کی ضرورت سے زیادہ مقدار صحت کو سنگین خطرات میں ڈال دیتی ہے، جبکہ سبزی خور لوگوں کی صحت گوشت پسندوں سے کہیں بہتر اور مستحکم رہتی ہے، کیونکہ سبزیوں کا استعمال نقصان دہ اثرات نہیں رکھتا۔

پاکستان کے شمالی علاقوں میں وادی ہنزہ کے باشندے لمبی عمر گزارتے ہیں، جہاں ان کی خوراک کا بڑا حصہ سبزیوں پر مبنی ہوتا ہے۔ صحت کے ماہرین کے مطابق، زیادہ گوشت کھانے والے افراد جلد امراضِ قلب کا شکار ہو جاتے ہیں، جبکہ سبزی خور زیادہ تر دل کی بیماریوں سے بچے رہتے ہیں۔ اس کی واضح مثال جاپان ہے، جہاں لوگ چکنائی کی مقدار انتہائی کم رکھتے ہیں، اس لیے قلب کی بیماریوں کی شرح عالمی سطح پر سب سے کم ہے۔ عید الاضحیٰ کے تین دنوں میں گوشت کی کھپت عروج پر پہنچ جاتی ہے، مگر ماہرین غذائیت کی رائے ہے کہ ایک دن میں 100 گرام گوشت کافی ہے، جبکہ ہفتہ بھر کی کل مقدار نصف کلو سے زائد نہ ہو۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) بھی مشورہ دیتا ہے کہ سرخ گوشت صرف ہفتے میں دو بار استعمال کریں، اور روزانہ کھانے کی صورت میں کل مقدار 500 گرام سے نہ گزرے۔ عید کے دنوں میں 250 گرام روزانہ کی مقدار کو وقتی طور پر برداشت کیا جا سکتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ گوشت چھوڑ دیں اور صرف سبزیوں پر قائم رہیں؛ مقصد تو توازن ہے، یعنی ضرورت کے مطابق استعمال۔

تحقیقات سے ثابت ہے کہ سبزیاں زیادہ کھانے والوں میں کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ انتہائی کم ہوتا ہے، جبکہ زائد گوشت کھانے والوں میں یہ شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح، دودھ اور انڈوں کی زیادتی بھی کولیسٹرول بڑھاتی ہے کیونکہ ان میں چربی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ سبزی خوروں میں بڑی آنت کے سرطان کی شرح گوشت خوروں سے کم ہوتی ہے، جبکہ گوشت پسند قبض کا زیادہ شکار رہتے ہیں۔ خواتین میں پستان اور رحم کے کینسر کا ایک عنصر گوشت کی زیادتی بھی ہے۔ سبزیاں کھانے سے جسم میں کینسر روک تھام والے انزائمز پیدا ہوتے ہیں، جو انہیں گوشت خوروں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ غذائی پلان میں سبزیوں کو فوقیت دیں، اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ گوشت کے سالن میں سبزیاں غالب ہوں۔ بلاشبہ گوشت پروٹین کا بہترین ذریعہ ہے، مگر جدید سائنسی مطالعے بتاتے ہیں کہ جانوروں سے حاصل ہونے والی زیادہ پروٹین صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ تحقیق کار گوشت کو چکنائی اور کولیسٹرول کا اکھاڑہ کہتے ہیں، اس لیے کم چکنائی والا گوشت منتخب کریں، اسے اچھی طرح دھوئیں اور اضافی چربی ہٹا دیں تاکہ یہ نقصان دہ نہ رہے۔ گوشت کو ضرورت سے زیادہ نہ پکائیں، کیونکہ زیادہ پکا گوشت لبلبے کے کینسر کا خطرہ بڑھاتا ہے، جبکہ مناسب پکانے سے وٹامنز اور معدنیات برقرار رہتے ہیں جو جسم کو طاقت دیتے ہیں۔

آج کل جو بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، ان میں دل کی خرابیاں، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، زیادہ کولیسٹرول اور ذہنی تناؤ شامل ہیں، جن کی بنیادی وجہ غذائی عادات اور طرز زندگی کی تبدیلی ہے۔ ہمارے یہاں مرغن کھانے، فاسٹ فوڈ، جنک فوڈ اور زائد گوشت کی کھپت عام ہے۔ طب اور صحت کے ماہرین متفق ہیں کہ سادہ فطری زندگی اور قدرتی غذائیں—جیسے پھل اور سبزیاں زیادہ کھانا، رات کو وقت پر سونا اور صبح جلدی اٹھنا—ہمیں ان امراض سے بچاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، گوشت والے کھانے کے بعد دن بھر بیٹھنے کی بجائے ہلکی پھلکی ورزش جاری رکھیں تاکہ صحت مستحکم رہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *