دبئی سے گرفتار طیفی بٹ کو لاہور منتقل کرنے کے دوران رحیم یار خان میں ساتھیوں کی فائرنگ
جوابی کارروائی میں دو حملہ آور فرار، پولیس نے لاش قبضے میں لے کر تفتیش شروع کر دی

تصویر: UrduPoint.com
پنجاب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی مبینہ جوابی کارروائی میں امیر بالاج قتل کیس کا مرکزی ملزم خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ ہلاک ہو گیا۔ سی سی ڈی ذرائع کے مطابق، طیفی بٹ کو دبئی سے انٹرپول کی مدد سے گرفتار کرنے کے بعد لاہور منتقل کیا جا رہا تھا کہ رحیم یار خان کے قریب ملزم کے ساتھیوں نے پولیس پر حملہ کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طیفی بٹ کو بالاج قتل کیس کی تفتیش کے لیے لاہور لایا جا رہا تھا جب ملزم کے ساتھیوں نے اسے چھڑوانے کی کوشش کی اور فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں طیفی بٹ گولی لگنے سے مارا گیا۔ حملہ کرنے والے دو افراد فرار ہو گئے، جبکہ پولیس نے طیفی بٹ کی لاش قبضے میں لے لی اور کیس کی مزید تفتیش شروع کر دی۔
ذرائع نے بتایا کہ طیفی بٹ کو گزشتہ ماہ دبئی سے گرفتار کیا گیا تھا، جہاں وہ واردات کے فوراً بعد فرار ہو گیا تھا۔ امیر بالاج ٹیپو قتل کیس میں اسے اشتہاری قرار دیا گیا تھا، اور گرفتاری کے لیے وزارت داخلہ سے رابطہ کر کے انٹرپول کے ذریعے ریڈ وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔ پنجاب پولیس کی ٹیم نے دبئی میں ایک دعوت کے دوران طیفی بٹ کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کیا، اور عدالت کی منظوری کے بعد پاکستان لایا جا رہا تھا۔ اس کیس میں جے آئی ٹی نے پہلے ہی طیفی بٹ کے بھائی گوگی بٹ کو قصوروار قرار دیا تھا، جو عبوری ضمانت پر ہے۔
واضح رہے کہ امیر بالاج ٹیپو کو 18 فروری 2024 کو لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ میں سابق ڈی ایس پی اکبر اقبال کے بیٹے کی شادی کی تقریب کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ حملہ آور نے فائرنگ کی جس سے بالاج سمیت تین افراد زخمی ہوئے، اور بالاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جیناح ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ جوابی فائرنگ میں حملہ آور مظفر موقع پر ہلاک ہو گیا، جو طیفی بٹ کا قریبی تھا۔ مقدمہ بالاج کے بھائی امیر مصعب کی مدعیت میں طیفی بٹ، گوگی بٹ اور چار نامعلوم افراد کے خلاف درج ہے، اور دشمنی کی جڑیں خاندانی ہیں جو تین نسلوں سے جاری ہے






