غزہ امن معاہدے پر شرم الشیخ میں دستخط، ٹرمپ کی موجودگی میں 20 رہنماؤں کی شرکت

امریکی صدر ٹرمپ، مصری صدر السیسی اور قطر امیر سمیت ثالثی دستخط، پہلا مرحلہ یرغمالیوں کا تبادلہ

دوسرا مرحلہ تعمیر نو، وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقاتیں، فلسطینی حمایت کا اعلان

تصویر: UrduPoint.com

مصر کے شہر شرم الشیخ میں امریکہ سمیت 20 ممالک کے رہنماؤں کی بیٹھک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ثالثوں نے غزہ امن معاہدے پر دستخط کر دیے، جو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا پہلا مرحلہ ہے۔ عالمی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، امریکی صدر ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، قطر کے امیر اور ترکی سمیت ثالثیوں نے تقریب میں دستخط کیے، جہاں یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کا اعلان ہوا—اسرائیل 250 فلسطینی قیدیوں (بشمول عمر قید والے) اور 1700 گرفتار فلسطینیوں کو رہا کرے گا، جبکہ حماس تمام زندہ یرغمالیوں کو واپس بھیجے گا۔ ٹرمپ نے اسے “سب سے مشکل بریک تھرو” قرار دیا، اور مصری صدر السیسی کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مکمل تعاون کرے گا، جبکہ السیسی نے ٹرمپ کی کاوشوں کو سراہا۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ دوسرا مرحلہ (غزہ کی تعمیر نو) شروع ہو چکا، کیونکہ دونوں مراحل جڑے ہوئے ہیں، اور امریکا فلسطینیوں کی تعمیر میں مدد کرے گا، بشرطیکہ وہ تشدد چھوڑ دیں۔ تقریب میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ، فلسطینی صدر محمود عباس، بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ اور قطر کے امیر سے ملاقاتیں کیں، جہاں شریف نے فلسطینیوں کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی حق خود ارادیت اور آزاد ریاست کی حمایت کرے گا۔ عباس نے پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور انسانی مدد پر شکریہ ادا کیا، اور فریقین نے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو سراہا۔ یہ معاہدہ غزہ میں 67,000 سے زائد ہلاکتوں کے بعد راحت کا باعث بنا، مگر مستقبل کی تشویش بھی برقرار ہے، جہاں فلسطینی اتھارٹی کا کردار واضح نہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *