عمران خان کی تصویر ممنوع، اسرائیلی پارلیمنٹ براہ راست نشر: پی ٹی آئی کا شدید ردعمل

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار Knesset کی کارروائی ٹی وی پر، قائداعظم کے فلسطین موقف کی یاد دلائی

ٹرمپ کا خطاب، نیتن یاہو کی خوشامد، احتجاج، غزہ امن معاہدے کی دستاویز پر دستخط

تصویر: UrduPoint.com

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی تصویر دکھانا ممنوع ہے مگر اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی کارروائی پاکستان کے ٹی وی چینلز پر براہ راست نشر ہو رہی ہے، جو قائداعظم محمد علی جناح کے فلسطین موقف کی خلاف ورزی ہے۔ پی ٹی آئی کے جاری بیان میں کہا گیا کہ “اسرائیلی پارلیمنٹ کے مناظر ہمارے ٹی وی پر نشر ہو رہے، جبکہ عمران خان کی تصویر ممنوع ہے۔ قائداعظم نے کہا تھا کہ فلسطین آزاد نہ ہونے تک اسرائیل تسلیم نہیں کریں گے، مگر آج حکومت ایک طرف تسلیم نہ کرنے کا دعویٰ کرتی ہے اور دوسری طرف اسرائیل تسلیم کرنے والے کام کر رہی ہے۔ ہم کس راستے پر جا رہے ہیں؟” یہ ردعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کنیسٹ خطاب کی براہ راست نشریات پر آیا، جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔

ٹرمپ نے کنیسٹ میں خطاب کرتے ہوئے غزہ امن معاہدے کی کامیابی پر نیتن یاہو کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا، جس پر ارکان پارلیمنٹ کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور نعرے لگائے۔ ٹرمپ نے کہا کہ “امریکا مشکل وقت میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی تاریخ ساز لمحہ ہے، یہ جنگ کا اختتام اور نئی امید کا آغاز ہے۔ مشرق وسطیٰ کا سنہرا دور شروع ہو رہا، غزہ کی تعمیر نو پر توجہ دیں، عرب اور مسلم ممالک کا کردار قابل تعریف ہے، ایران کو بھی ڈیل کی دعوت دیتے ہیں۔” انہوں نے اسرائیل کو دیے گئے جدید ہتھیاروں کو امن کا ذریعہ قرار دیا، اور تل ابیب سے دمشق تک دوستی کے رشتوں کی بات کی۔

خطاب کے دوران بائیں بازو کی دو ارکان پارلیمنٹ، بشمول ایمن عودہ، نے فلسطین کے حق میں احتجاج کیا، جس پر ایوان میں شور شرابا ہوا اور سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں باہر نکال دیا۔ عودہ نے کہا کہ “نیتن یاہو کی خوشامد منافقت کی انتہا ہے، غزہ میں جرائم سے بری نہیں ہو سکتے، صرف فلسطین کی آزادی سے امن ممکن ہے۔” یہ نشریات پاکستانی چینلز پر براہ راست دکھائی گئیں، جو پی ٹی آئی کے مطابق اسرائیل کی تسلیم کی طرف اشارہ ہے۔ غزہ معاہدے کی دستاویز پر ٹرمپ، مصری صدر السیسی، قطر امیر اور دیگر نے دستخط کیے، جو یرغمالیوں تبادلے اور تعمیر نو کا پہلا مرحلہ ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *