ٹرمپ کا اسرائیلی پارلیمنٹ خطاب، پہلی بار پاکستان ٹی وی پر براہ راست نشر

نیتن یاہو کی خوشامد پر تالیاں، فلسطینی احتجاج، غزہ امن معاہدے کی تعریف

ایمن عودہ کا احتجاج: منافقت کی انتہا، صرف فلسطین آزادی سے امن ممکن

تصویر: UrduPoint.com

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) سے خطاب کی پاکستان میں پہلی بار براہ راست نشریات پر تنقید کی جارہی ہے، جہاں نیتن یاہو کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور ارکان پارلیمنٹ کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں، جبکہ نعرے لگائے گئے۔ یہ نشریات پاکستانی ٹی وی چینلز پر براہ راست دکھائی گئیں، جہاں ٹرمپ نے کہا کہ “امریکا مشکل وقت میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا، اسرائیل نے طاقت سے سب جیت لیا، یرغمالیوں کی رہائی تاریخ ساز لمحہ ہے، یہ جنگ کا اختتام اور نئی امید کا آغاز ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “مشرق وسطیٰ کا تاریخی دور شروع ہو رہا، غزہ کی تعمیر نو پر توجہ دیں، عرب اور مسلم ممالک کا کردار قابل تعریف ہے، غزہ سے ایران تک نفرتوں نے صرف مصیبت دی، دہشت گردوں کی کامیابیوں کو امن میں تبدیل کریں۔”

خطاب کے دوران بائیں بازو کی دو ارکان پارلیمنٹ، بشمول اسرائیلی رکن ایمن عودہ، نے فلسطین کے حق میں احتجاج کیا، جس پر ایوان میں شور شرابا ہوا اور سکیورٹی اہلکاروں نے عودہ کو باہر نکال دیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، عودہ نے کہا کہ “ایوان میں منافقت کی حد ناقابل برداشت ہے، نیتن یاہو کی خوشامد کی مثال نہیں، یہ منظم گروہ اسے غزہ جرائم سے بری نہیں کرتا، ہزاروں اسرائیلی اور لاکھوں فلسطینی متاثرین کے خون کی ذمہ داری باقی ہے، صرف قبضے کا خاتمہ اور فلسطین تسلیم سے انصاف، امن اور سلامتی ممکن ہے۔” یہ احتجاج ٹرمپ کے خطاب کے دوران ہوا، جہاں ٹرمپ نے غزہ امن معاہدے کو “غیر معمولی کامیابی” قرار دیا۔

یہ نشریات پاکستان میں تنازعہ کا باعث بنیں، جہاں پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان کی تصویر ممنوع ہے مگر اسرائیلی پارلیمنٹ کی کارروائی براہ راست دکھائی جا رہی، جو قائداعظم کے فلسطین موقف کی خلاف ورزی ہے۔ غزہ معاہدے کی دستاویز پر ٹرمپ، مصری صدر السیسی، قطر امیر اور دیگر نے دستخط کیے، جو یرغمالیوں تبادلے اور تعمیر نو کا پہلا مرحلہ ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *