پاکستان نے افغانستان کی 48 گھنٹے کی جنگ بندی کی درخواست منظور کر لی

شام 6 بجے سے نافذ، دونوں فریقین بات چیت سے مسائل حل کی کوشش کریں گے

قندھار اور کابل میں پاکستانی کارروائیوں کے بعد، 27+ ہلاکتیں، 100+ زخمی؛ دہشت گرد ٹھکانے تباہ

تصویر: UrduPoint.com

پاکستان نے افغان طالبان کی درخواست پر 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی منظور کر لی ہے، جو آج شام 6 بجے (13:00 GMT) سے نافذ ہو گی، اور اس دوران دونوں ممالک بات چیت سے سرحدی مسائل کا حل تلاش کریں گے۔ وزارت خارجہ کے مطابق، پاکستانی حکومت اور افغان طالبان رجیم نے باہمی رضامندی سے یہ فیصلہ کیا، جو حالیہ سرحدی جھڑپوں (چمن اور سپن بولڈک) کے بعد ہے، جہاں 27 سے زائد ہلاکتیں (بشمول 12+ افغان فوجی اور 14+ شہری) اور 100+ زخمی ہوئے۔

ذرائع کے مطابق، یہ جنگ بندی افغان درخواست پر ہے، مگر طالبان ترجمان زبیر اللہ مجاہد نے اسے “پاکستانی اصرار” قرار دیا، اور کہا کہ “جب تک خلاف ورزی نہ ہو، طالبان فورسز اس کی پاسداری کریں گی۔” اس سے قبل، پاکستان نے قندھار (افغان بٹالین ہیڈکوارٹرز 4، 8، بریگیڈ 5) اور کابل (فتنہ الہندوستان مرکز) میں خالصتاً خالصتاً افغان طالبان اور خوارج کے ٹھکانوں پر precision strikes کیں، جو شہری آبادی سے الگ تھے اور کامیابی سے تباہ ہوئے۔ پاک فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں “جارحیت” کے جواب میں تھیں، جو 2021 سے بڑھتی militant حملوں (TEHRIK-I-TALIBAN PAKISTAN) کے تناظر میں ہیں۔

یہ جنگ بندی سرحدی تناؤ کم کرنے کا عارضی قدم ہے، جو 2021 سے بدتر ہو گیا، جہاں IS اور al-Qaeda جیسے گروپس فعال ہیں، مگر دائمی حل کے لیے بات چیت ضروری ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *