اسلام آباد میں TLP کے دفاتر، مساجد اور مدارس سیل؛ وفاقی انتظامیہ کا کریک ڈاؤن

مرکزی دفتر اٹھال چوک اور بھارہ کہو میں متعدد جائیدادیں بند، مذہبی جماعت کیخلاف کارروائی

مریم نواز کی زیر صدارت امن اجلاس؛ TLP پر پابندی کی وفاقی سفارش، غیر قانونی اسلحہ پر 14 سال قید

تصویر: UrduPoint.com

وفاقی انتظامیہ نے اسلام آباد میں تحریک لبیک پاکستان (TLP) کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا، جہاں مرکزی دفتر (مری روڈ، اٹھال چوک)، مدینہ ٹاؤن آفس (سملی ڈیم روڈ، بھارہ کہو)، جامع مسجد و مدرسہ انوار مدینہ (نئی آباد بھارہ کہو)، جامع مسجد ٹیکری (نئی آباد بھارہ کہو)، یوسی لیول دفتر (شاہ پور سملی ڈیم روڈ)، مسجد ممتاز قادری (گاؤں اٹھال، سملی ڈیم روڈ)، جامع مسجد سترہ میل (مری روڈ بھارہ کہو)، اور یوسی 14 دفتر، مسجد و مدرسہ (سیری چوک پھلگراں) سمیت متعدد مساجد اور مدارس سیل کر دیے گئے۔ اسلام آباد پولیس نے IG کی ہدایات پر کارروائی کی، جو حالیہ violent protests (مریڈک، لاہور) کے بعد ہے، جہاں ایک پولیس افسر شہید، 48 زخمی، اور 3 TLP کارکن ہلاک ہوئے۔ TLP ترجمان عثمان نوشاہی نے تصدیق کی کہ مساجد اوقاف کو ہاتھوں میں دے دی گئیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت امن و امان پر “غیر معمولی اجلاس” میں TLP سمیت “extremist party” پر وفاقی پابندی کی سفارش، قیادت کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے Fourth Schedule میں شامل، تمام جائیدادیں/اثاثے اوقاف کو دینے، پوسٹرز/بینرز/اشتہارات پر پابندی، سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند، بینک اکاؤنٹس منجمد، اور loudspeaker ایکٹ خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا فیصلہ ہوا۔ اجلاس میں نفرت انگیزی، اشتعال انگیزی، پولیس شہادت اور املاک تباہی میں ملوث افراد کو فوری گرفتاری، دہشت گردی عدالتوں میں مقدمات، اور PTI founder کے inciteful post پر PECA کیس درج کرنے کا حکم دیا گیا۔

اجلاس میں غیر قانونی افغان باشندوں کا رئیل ٹائم ڈیٹا تیار، ٹیکس نیٹ میں لانا، whistleblower system متعارف (رازداری کے ساتھ)، combing operations، اور فوری deportation کا فیصلہ ہوا، جبکہ 65,000+ Afghan deported ہو چکے۔ غیر قانونی اسلحہ پر 14 سال قید اور 20 لاکھ جرمانہ (غیر قابل ضمانت)، نئے لائسنس پر پابندی، ڈیلرز سٹاک چیک، اسلحہ فیکٹریوں ریگولرائزیشن کی وفاقی سفارش، اور ایک ماہ میں رجسٹریشن کا الٹی میٹم دیا گیا۔ مریم نواز نے “iron-fist” پالیسی کا اعلان کیا، کہ “حکومت کی تحفظ کی ضمانت ہے، violence اور unrest برداشت نہ ہوگا”۔

یہ کارروائی TLP protests (مریڈک، لاہور) کے بعد ہے، جہاں 5+ ہلاکتیں، دزینز زخمی، اور Section 144 صوبہ بھر نافذ ہے، اور PTI کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *