لاہور میں سموگ بحران؛ موٹر سائیکل سواروں کے لیے ماسک لازمی، شہر دنیا کا دوسرا آلودہ

مریم اورنگزیب کی ہدایات؛ تعمیراتی کاموں پر ڈھانپ، دوپہر 1-5 بجے ہلکی بہتری متوقع

دہلی-ملتان سے آلودگی؛ شہری گھروں میں رہیں، ایئر پیوریفائر استعمال کریں، سانس کی تکلیف کا خطرہ

پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبے کے شہروں میں بڑھتے سموگ کے بحران پر موٹر سائیکل سواروں کے لیے ماسک لازمی قرار دے دیا ہے، جہاں آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے اور لاہور دنیا کا دوسرا آلودہ شہر بن گیا۔ سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ “دہلی، چندی گڑھ، گرداسپور، لدھیانہ، پٹیالہ سے ہوائیں لاہور کا رخ کر رہی ہیں، جبکہ ملتان، بہاولپور، بہاولنگر بھی بھارت سے آلودگی کا شکار ہیں”، اور ہدایات جاری کیں کہ تعمیراتی مقامات، سامان لانے والی گاڑیاں ڈھانپی جائیں، موٹر سائیکل پر سفر کرنے والوں کو ماسک لازمی، گاڑیوں کے شیشے بند رکھیں، گھروں کی کھڑکیاں/دروازے بند، اور دوپہر 1 سے 5 بجے ہلکی بہتری متوقع ہے، مگر شام کو سموگ شدید رہے گا۔

محکمہ ماحولیات کے مطابق، لاہور کا AQI 520 تک پہنچ گیا (دنیا کا دوسرا آلودہ، گزشتہ روز پہلا)، جہاں مشرقی ہوائیں آلودگی بڑھا رہی ہیں، اور شہریوں کو ہدایات دی گئیں کہ غیر ضروری باہر نہ نکلیں، ماسک پہنیں، ایئر پیوریفائر استعمال کریں، کھلی فضا میں ورزش نہ کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سموگ سے سانس کی تکلیف، آنکھوں میں جلن، کھانسی، اور جلدی امراض کا خطرہ ہے، اور حکومت نے پانی کے چھڑکاؤ، اینٹی سموگ گنز، اور آلودگی کنٹرول اقدامات جاری رکھے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *