وائس چانسلر خالد عراقی کا نوٹس؛ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل، طلبہ کا احتجاج
گورنر سندھ اور وزیر جامعات کا حکم؛ ٹریفک کنٹرول کی کوشش، 1980 ماڈل بسیں خطرہ
جامعہ کراچی میں پوائنٹ بس کی زد میں آ کر سوشل ورک ڈپارٹمنٹ کی سیکنڈ ایئر طالبہ انیقہ سعید 10 اکتوبر 2025 کو 9:15 AM بس سے اترتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئیں، جب بس ریورس کرتے ہوئے انہیں کچل دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ڈرائیور کی لاپرواہی سے بس اچانک چل پڑی، جس سے انیقہ ٹائروں کے نیچے آ گئیں اور موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ واقعے سے جامعہ میں غم کی لہر دوڑ گئی، اور طلبہ نے انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا، مطالبہ کیا کہ ٹریفک کنٹرول، اسپیڈ بریکرز، سائن بورڈز لگائیں، اور انیقہ کے اہل خانہ کو مالی امداد دیں۔ مبینہ ٹاؤن پولیس نے ڈرائیور کو گرفتار کیا، مگر اہل خانہ نے قانونی کارروائی سے انکار کر دیا، لاش فوری حوالے کی۔
وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے نوٹس لے کر شعبہ ٹرانسپورٹ کو تحقیقات کا حکم دیا، ڈرائیور معطل، اور کمیٹی (NED یونیورسٹی ٹرانسپورٹ انچارج، 2 طلبہ، کرمنالوجی کی نائمہ سعید کنوینر) تشکیل دی۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے وائس چانسلر کو انکوائری، پولیس کو رپورٹ کی ہدایت دی، اور تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیر جامعات اسماعیل راہو نے رپورٹ طلب کی، کہا “حادثہ افسوسناک، ذمہ داروں پر سخت کارروائی”۔ جامعہ کے پاس 45 ہزار طلبہ کے لیے 30 بسیں (1980-2000 ماڈل) ہیں، جن کے دروازے چلتے ہوئے کھلے رہتے ہیں، جو خطرہ ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے “ٹریفک کا کوئی نظام نہیں، جانیں خطرے میں”
