بجلی 37 پیسے سستی ہونے کا امکان؛ صارفین کو 4.50 ارب روپے کا ریلیف

ستمبر فیول ایڈجسٹمنٹ کی سماعت مکمل؛ NEPRA 6 نومبر کو فیصلہ، سہ ماہی میں 36 پیسے اضافہ کا خدشہ

صنعت وزراعت کو 16 روپے فی یونٹ رعایت؛ وزیر توانائی لغاری کا اعلان، 7,000 MW اضافی بجلی G2G

وفاقی حکومت نے ستمبر 2025 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی سماعت مکمل ہونے کے بعد بجلی کی قیمتوں میں 37 پیسے فی یونٹ کمی کا امکان ظاہر کیا ہے، جو صارفین کو 4.50 ارب روپے کا فوری ریلیف دے گا، جبکہ NEPRA کا حتمی فیصلہ 6 نومبر کو متوقع ہے۔ مرکزی پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA-G) نے درخواست کی کہ ستمبر میں 5% کھپت کمی اور چین پاور حب کی عدم پیداوار کی وجہ سے 37 پیسے فی یونٹ کم کیا جائے، جو صرف ایک ماہ کے لیے ڈسکوز صارفین پر लागو ہوگا۔ تاہم، سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 36 پیسے فی یونٹ اضافہ کا خدشہ ہے، جو 8.01 ارب روپے کا بوجھ ڈالے گا، جس میں کیپسٹی پیمنٹس، O&M اخراجات، اور لائن لاسز شامل ہیں۔

دوسری جانب، وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے اعلان کیا کہ صنعت وزراعت کو 7,000 MW اضافی بجلی رعایتی نرخوں پر دی جائے گی، جہاں صنعتی یونٹس 34 روپے سے 22.98 روپے، اور زرعی 38 روپے سے 22.98 روپے فی یونٹ سستے ہوں گے، جو اوسطاً 5-7 روپے فی یونٹ ریلیف دے گا۔ لغاری نے کہا کہ “صنعت اور زراعت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اضافی 100 یونٹ استعمال پر صنعتی صارفین کو 5 روپے اور زرعی کو 7 روپے فی یونٹ رعایت ملے گی، جو 3 سال (نومبر 2025-اکتوبر 2028) تک جاری رہے گی”۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر یہ اقدام روشن معیشت پیکج کا حصہ ہے، جو تیل کی کم قیمتوں، بہتر بارشوں، اور WAPDA کی 20% اضافی ہائیڈرو پاور کی وجہ سے ممکن ہوا، اور IMF کی منظوری بھی حاصل ہے۔