لاہور کی فضائی آلودگی خطرناک سطح پر؛ دنیا کا آلودہ ترین شہر، AQI 471 تک پہنچا

سول سیکرٹریٹ 804، سی سی آر پی 758، ساندہ روڈ 745؛ ماہرین کی ہدایت: ماسک لازمی، گھروں میں رہیں

سموگ سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ؛ احتیاطی تدابیر اختیار کریں

لاہور کی فضائی آلودگی نے ایک بار پھر انتہائی خطرناک حد عبور کر لی ہے، جہاں شہر کو آج بھی دنیا کا آلودہ ترین مقام قرار دیا گیا۔ ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) کے مطابق، لاہور کا مجموعی AQI 471 ریکارڈ ہوا، جو ‘ہیزارڈس’ زمرے میں آتا ہے۔ آلودہ ترین علاقوں میں سول سیکرٹریٹ 804، سی سی آر پی آفس 758، ساندہ روڈ 745، گلبرگ فیز تھری 603، ڈی ایچ اے فیز 8 میں 596، راوی روڈ 591، اور شادمان 585 شامل ہیں۔ یہ آلودگی بھارتی دیوالی کی آتش بازی، کھیتوں کی جلائی، اور مقامی گاڑیوں/کارخانوں کے دھوئیں سے بڑھ رہی ہے، جہاں مشرقی ہوائیں (4-7 کلومیٹر فی گھنٹہ) آلودگی کو شہر میں لے آ رہی ہیں۔

ماہرین ماحولیات نے شہریوں کو سختی سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جن میں ماسک کا لازمی استعمال، غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز، بچوں اور بزرگوں کو گھروں میں رکھنا، ایئر پیوریفائر استعمال، اور کھڑکیاں بند رکھنا شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سموگ سے سانس کی تکلیف، آنکھوں میں جلن، کھانسی، اور امراض کا خطرہ بڑھ گیا ہے، اور اگر شدت برقرار رہی تو تعلیمی اداروں کی بندش یا لاک ڈاؤن جیسے اقدامات ہو سکتے ہیں، جیسا ماضی میں ہوا۔ محکمہ ماحولیات نے اینٹی سموگ سکواڈز کو فعال کر دیا، اور پانی چھڑکاؤ، اینٹی سموگ گنز جاری ہیں۔