
تصویر: UrduPoint.com
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم میں اگر صوبوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالا گیا تو بھرپور مخالفت کریں گے، اور صوبوں کے اختیارات میں کمی ہرگز قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت کھینچ تان سے حاصل کی جا رہی ہے، جبکہ مدارس کو وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور مدارس کی رجسٹریشن بھی نہیں ہو رہی۔ مولانا نے کہا کہ ملک کے تمام بچے ہمارے اپنے ہیں، کسی کو الگ نظر سے نہیں دیکھتے، اور افغان مذاکرات کی کامیابی کی امید ہے۔
دوسری جانب، سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں بیرسٹر علی طاہر نے 27ویں ترمیم کو چیلنج کر دیا، جس میں استدعا کی گئی کہ ترمیم سے عدالتی نظام مفلوج اور عدالتیں غیر مؤثر ہو جائیں گی۔ درخواست آرٹیکل 184(3) کے تحت دائر کی گئی، جس میں کہا گیا کہ ترمیم سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے اختیارات محدود کرے گی، جو آئین کے بنیادی ڈھانچے کے منافی ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ آرٹیکل 184(3) اور 199 عدالتی جائزے کے بنیادی ستون ہیں، انہیں ختم یا متوازی نظام سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، اور ترمیم سے اعلیٰ عدالتیں آئینی معاملات کی سماعت نہیں کر سکیں گی۔






