
“Image Source: UrduPoint.com
معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے 27ویں آئینی ترمیم میں تاحیات عدالتی استثنیٰ کی تجویز پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں کوئی بھی شخص، چاہے کتنا بڑا عہدہ ہو، عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ہو سکتا، اور تاحیات تحفظ شریعت اور آئین کی روح کے بالکل خلاف ہے، جو ملک کے لیے نہایت شرمناک ہوگا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خلفائے راشدین کی مثالیں سب کو معلوم ہیں، جبکہ پرانا آئین بھی صدر کو صرف مدت کے دوران تحفظ دیتا تھا جو اسلام کے خلاف تھا، پارلیمنٹ ارکان سے اپیل ہے کہ یہ گناہ اپنے سر نہ لیں۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بھی کہا کہ ترمیم کا استثنیٰ غیر شرعی اور غیر آئینی ہے، جماعت اسے مسترد کرتی ہے، اسلام اور آئین میں استثنیٰ کی کوئی گنجائش نہیں، خلفائے راشدین عدالتوں کے سامنے پیش ہوئے تو آج کے حکمرانوں کی کیا حیثیت؟ انہوں نے کہا کہ اس پارلیمنٹ میں فارم 47 کی نشستیں غالباً ہیں، غلط طریقے سے دی گئیں تو سسٹم درست ہو جائے گا، نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا کر 70 ہزار اضافی ووٹ قبول کیے۔






