
سری لنکن کرکٹ ٹیم کے 8 کھلاڑیوں نے اسلام آباد میں گزشتہ روز ہونے والے خودکش دھماکے (12 ہلاک، 27 زخمی) کے بعد دورہ پاکستان ادھورا چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے، اور جمعرات 13 نومبر 2025 کو راولپنڈی سے واپس روانہ ہوں گے، جس سے تین ون ڈے میچوں کی سیریز اور سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ (پاکستان، سری لنکا، زمبابوے) شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔ سری لنکن کرکٹ بورڈ (SLC) نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کئی کھلاڑیوں نے حفاظتی خدشات کی وجہ سے واپسی کی درخواست کی، مگر بورڈ نے تمام کھلاڑیوں، عملے، اور مینجمنٹ کو دورہ جاری رکھنے کا حکم دیا، اور واپس جانے والوں پر فوری تبادلہ اور “فارمل ریویو” کی دھمکی دی، جو 2 سال کی پابندی کا باعث بن سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، PCB چیئرمین محسن نقوی کی سری لنکن ہائی کمشنر ریئر ایڈمرل فریڈ سری ویراتنے سے ملاقات اور سیکورٹی بریفنگ (چیف کمشنر، آئی جی اسلام آباد، PCB COO سمیر احمد کی موجودگی میں) ناکام رہی، جہاں نقوی نے ذاتی نگرانی کا وعدہ کیا، مگر کھلاڑی مطمئن نہ ہوئے۔ SLC نے کہا کہ “سیکورٹی PCB اور حکام سے ایڈریس ہو رہی ہے، مگر واپس جانے والوں کی جگہ فوری متبادل بھیجے جائیں گے”۔ یہ 2009 لاهور حملے (6 زخمی، 10 سال دورہ بند) کی یاد دہانی کراتا ہے، جہاں اعتماد بحال کرنے میں عرصہ لگا، اور اب پاکستان کی کرکٹ سفارتی کو دھچکا لگ سکتا ہے، خاص طور پر زمبابوے ٹیم پہلے سے حاضر ہونے کے باوجود۔






