صدر مملکت نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کر لیے

“Image Source: UrduPoint.com

صدر مملکت عارف اللا زرداری نے سپریم کورٹ کے سینئر ججوں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں کو منظور کر لیا ہے، جو 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے فوراً بعد پیش کیے گئے تھے۔ صدر دفتر کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں بتایا گیا کہ استعفے 13 نومبر 2025 کو موصول ہوئے، اور انہیں فوری منظور کر لیا گیا۔ یہ استعفے ترمیم کو آئین پر “سنگین حملہ” قرار دیتے ہوئے دیے گئے، جو عدلیہ کی آزادی اور سپریم کورٹ کی خودمختاری کو کمزور کرتی ہے، اور اس سے عدلیہ پر سیاسی دباؤ کی نشاندہی ہوتی ہے، جو پاکستان کی جمہوری بنیادوں کو کمزور کر سکتی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل خط میں لکھا کہ “ترمیم سپریم کورٹ کو توڑ دیتی ہے، عدلیہ کو ایگزیکٹو کنٹرول میں لا دیتی ہے، اور آئینی جمہوریت کے دل پر وار کرتی ہے”، جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ “میں نے آئین کی حفاظت کی قسم کھائی تھی، نہ کہ کسی ایک آئین کی”، اور انہوں نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر خدشات ظاہر کیے تھے۔ یہ استعفے ترمیم کی تنقید کو اجاگر کرتے ہیں، جو سپریم کورٹ کی جگہ وفاقی آئینی عدالت قائم کرتی ہے، اور عدلیہ کی آزادی پر سوالات اٹھاتی ہے، جبکہ PTI اور JUI-F جیسی جماعتوں نے اسے “عدلیہ کا قتل” قرار دیا ہے۔