
خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی یکم تاریخ سے قبل ادائیگی پر پابندی عائد کر دی، جو صوبائی محکمہ خزانہ کے اعلامیے سے واضح ہوا۔ گزشتہ ماہ اکتوبر میں آخری دنوں میں ادائیگی کی وجہ سے انتظامی مسائل پیدا ہوئے، اس لیے اب ہر ماہ کی یکم تاریخ کو ہی ادائیگیاں ہوں گی۔ محکمہ خزانہ نے تمام اداروں کو سختی سے عمل درآمد کی ہدایت دی، جو مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے اور ملازمین کی سہولت کے لیے ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ تنخواہوں کی تاخیر سے متعلق شکایات کم کرے گا، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں بینکنگ تک رسائی محدود ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں یہ فیصلہ منظور ہوا، جہاں آفریدی نے پالیسی گائیڈ لائنز پیش کیں اور ترجیحات کا لائحہ عمل دیا۔ انہوں نے امن جرگے میں سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، امن مشترکہ ہدف ہے، صوبائی اسمبلی کی تمام قراردادوں پر عمل ہوگا، خاص طور پر ‘ایکشن ان ایڈ آف سول پاورز’ کی ختم، جو انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ آفریدی نے 9 مئی حملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا، جو تمام شواہد (سی سی ٹی وی) جمع کرے گی۔
آفریدی نے مزید کہا کہ سود سے پاک خیبرپختونخوا اولین ترجیح ہے، اسلامک انویسٹمنٹ متعارف کروائیں گے، کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس، فنڈز پر ذاتی تشہیر کی اجازت نہیں، تمام قوانین عوامی مفاد میں، خامیوں کا جائزہ لے کر ترامیم کریں۔






