این سی سی آئی کرپشن اسکینڈل؛ 9 افسران او ایس ڈی، لاکھوں کی رشوت، غیر قانونی کال سینٹرز سے ماہانہ 1.5 کروڑ وصولی

این سی سی آئی ہیڈکوارٹرز نے بڑے کرپشن اسکینڈل میں ملوث 9 افسران کو فوری طور پر او ایس ڈی بنا دیا اور ہیڈکوارٹرز میں کلوز کر دیا گیا۔ او ایس ڈی افسران میں شامل ہیں:

  • ایڈیشنل ڈائریکٹر پشاور عامر نذیر
  • ایڈیشنل ڈائریکٹر کوئٹہ حیدر عباس
  • ڈپٹی ڈائریکٹر سلیمان علوی
  • راولپنڈی، گوجرانوالہ، ایبٹ آباد کے 4 سب انسپکٹرز

ایف آئی اے کے مطابق افسران غیر قانونی کال سینٹرز کو تحفظ دینے کے بدلے ماہانہ لاکھوں روپے رشوت لے رہے تھے۔ اہم انکشافات:

  • راولپنڈی میں 15 کال سینٹرز سے ماہانہ 1.5 کروڑ وصولی
  • ستمبر 2024 سے اپریل 2025 تک مجموعی طور پر 12 کروڑ روپے وصول
  • ایک چھاپے کے بعد 14 غیر ملکیوں کی رہائی پر 2 کروڑ سے زائد وصولی
  • گرفتار غیر ملکی کو تشدد، ویڈیو بنائی گئی، 80 لاکھ + 10 لاکھ اضافی وصول
  • چھاپے سے برآمد 2.1 کروڑ روپے افسران میں تقسیم (ڈپٹی ڈائریکٹر ندیم خان 95 لاکھ، سب انسپکٹر سریم 17 لاکھ وغیرہ)

ایف آئی اے نے پہلے ہی 5 افسران (بشمول ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری) کو گرفتار کیا تھا۔ تحقیقات جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم کے خلاف قائم ادارے کا خود کرپٹ ہونا قومی سلامتی کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔