
اقوام متحدہ کی نئی رپورٹ “عالمگیر شہری امکانات 2025” میں بتایا گیا ہے کہ:
- دنیا کی موجودہ 8.2 ارب آبادی میں سے 4.5 ارب (55%) شہروں میں رہ رہے ہیں
- 1950 میں صرف 20% آبادی شہری تھی
- 2050 تک عالمی آبادی کا دو تہائی اضافہ شہروں میں ہوگا
- 10 لاکھ سے زائد آبادی والے شہروں کی تعداد 1975 میں 8 سے بڑھ کر 2025 میں 33 ہو چکی ہے، 2050 تک 37 ہو جائیں گے
دنیا کے سب سے بڑے شہر (2025):
- جکارتہ (انڈونیشیا) – 4.2 کروڑ
- ڈھاکہ (بنگلہ دیش) – 4 کروڑ
- ٹوکیو (جاپان) – 3.3 کروڑ
پاکستان کے تناظر میں اہم نکات:
- کراچی، لاہور، فیصل آباد تیزی سے پھیل رہے ہیں
- دیہی سے شہری منتقلی پاکستان میں دنیا کے سب سے تیز رفتار میں سے ایک ہے
- 2050 تک پاکستان کی 60% سے زائد آبادی شہروں میں ہوگی
چیلنجز جو رپورٹ نے اجاگر کیے:
- بے ترتیب شہری پھیلاؤ، سموگ، پانی کی قلت، رہائش کا بحران
- چھوٹے اور درمیانے شہروں (2.5 لاکھ سے کم آبادی) میں تیزی سے اضافہ، جن کے پاس وسائل کم ہیں
- دیہی علاقوں کی آبادی سکڑ رہی ہے، صرف ذیلی صحارا افریقہ میں دیہی اضافہ متوقع
یو این ڈیسا کے سربراہ لی جنہوا نے کہا: “اگر شہروں کو حکمت عملی سے منظم کیا جائے تو یہ موسمیاتی تبدیلی، غربت اور عدم مساوات کے خلاف سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔”






