
“Image Source: UrduPoint.com
اسلام آباد (26 نومبر 2025) وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے آج پاکستان بزنس کونسل کے سامنے ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے اصلاحاتی ایجنڈے کا تفصیلی خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اب محض معاشی استحکام پر نہیں بلکہ پائیدار اور تیز رفتار ترقی کی طرف گامزن ہے۔
ان کا سب سے بڑا اعلان سرکاری اخراجات میں کٹائی کا تھا: وفاقی وزارتوں اور اداروں کی رائٹ سائزنگ کے تحت 54 ہزار خالی آسامیاں مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہیں، جس سے خزانے کو ہر سال 56 ارب روپے کی براہ راست بچت ہوگی۔ ساتھ ہی کئی وزارتوں اور محکموں کو ضم یا بند کرنے کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔ وزیر خزانہ نے تسلیم کیا کہ اس عمل میں انسانی، قانونی اور مالی پیچیدگیاں ہیں لیکن ان اصلاحات کو کسی صورت روکا نہیں جائے گا۔
قرضوں کے انتظام میں بھی بڑی کامیابی سامنے آئی ہے۔ ڈیٹ مینجمنٹ آفس کو بین الاقوامی معیار پر استوار کرنے کے بعد قرض کی اوسط میچورٹی 4 سال تک بڑھا دی گئی ہے، جس سے ری فنانسنگ کا دباؤ اور سود کے اخراجات دونوں کم ہوئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ رواں مالی سال معاشی شرح نمو 3.5 فیصد اور اگلے سال 4 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ درمیانی مدت میں یہ شرح 6 سے 7 فیصد تک لے جانے کا ٹھوس پلان موجود ہے۔
ٹیکس نظام میں تاریخی تبدیلی کا بھی اعلان کیا گیا۔ ٹیکس پالیسی کا مکمل اختیار ایف بی آر سے وزارت خزانہ منتقل ہو چکا ہے اور نیا ٹیکس پالیسی آفس مکمل فعال ہے۔ اب سال میں صرف ایک بار بجٹ مشاورت نہیں ہوگی بلکہ پورے سال چیمبرز، شعبہ جاتی اداروں اور ماہرین کے ساتھ مسلسل رابطہ رہے گا تاکہ پالیسیاں تحقیق اور حقائق کی بنیاد پر بنیں۔ کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری فریم ورک بھی حتمی مراحل میں ہے اور جلد ہی پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی قائم ہو جائے گی۔
سرمایہ کاری کے حوالے سے خوشخبری یہ ہے کہ توانائی، کان کنی، آٹو موبیل، ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس سیکٹر میں عالمی کمپنیاں دوبارہ دلچسپی لے رہی ہیں۔ سیمنٹ، کھاد، آٹو اور موبائل مینوفیکچرنگ میں پیداوار بڑھ رہی ہے، جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اور ترسیلات زر میں بھی واضح استحکام آیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے سب سے بڑے خدشات یعنی سکیورٹی، میکرو اکنامک استحکام اور منافع کی واپسی پر کام تیزی سے جاری ہے۔
آگے کے اہم اقدامات میں گیارہویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو، پہلا پانڈا بانڈ چینی نئے سال سے قبل جاری کرنے اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کو وزیراعظم کی ذاتی نگرانی میں آگے بڑھانا شامل ہیں۔
وزیر خزانہ نے اختتام پر کہا: “یہ اصلاحات ناقابل واپسی ہیں۔ ہم معیشت کو نقدی سے دستاویزی، غیر پیداواری سے پیداواری اور قرضوں کے بوجھ سے نجات کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان نہ صرف استحکام حاصل کرے بلکہ تیز رفتار ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔”






