
آج لاہور میں جو اجلاس ہوا، اس میں ایک ایک کر کے ٹریفک کے تمام پرانے درد کو کھول کر رکھ دیا گیا اور فوراً ٹھوس فیصلے کر دیے گئے۔ اب بات ختم، عملدرآمد شروع!
لاہور کی پانچ بڑی ماڈل سڑکوں پر چنگ چی رکشوں پر مکمل پابندی لگ گئی۔ بسوں کی چھت پر سواری کا خاتمہ فوری طور پر ہوگا۔ سرکاری گاڑیاں بھی اب قانون سے بالاتر نہیں رہیں گی، خلاف ورزی کی تو بھاری جرمانہ ہوگا۔ اگر کسی گاڑی کا چالان بار بار کاٹا گیا تو گاڑی ضبط کر کے نیلام کر دی جائے گی۔
ون وے کی خلاف ورزی ختم کرنے کے لیے پورے پنجاب کو 30 دن کی آخری مہلت دے دی گئی ہے۔ کم عمر بچوں کی موٹر سائیکل اور کار ڈرائیونگ پر اب گاڑی مالک کو چھ ماہ تک قید بھی ہو سکتی ہے۔ میرج ہالز چلانے والوں کو اب پارکنگ کا مکمل انتظام کرنا پڑے گا، ورنہ ہال نہیں چلے گا۔ حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو دیت فوری ادا کی جائے گی۔ یو ٹرن کی ری ماڈلنگ ہوگی تاکہ سڑکیں محفوظ اور منظم ہو جائیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے ٹریفک پولیس کو کھل کر سناتے ہوئے کہا کہ یہ آخری موقع ہے، 30 دن میں لاہور سمیت پورا پنجاب ٹریفک کے معاملے میں تبدیل ہونا چاہیے، ورنہ نیا ڈیپارٹمنٹ بنائیں گے۔ ان کا براہ راست پیغام تھا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور مسلسل بے ہنگم ٹریفک اب ریاستی رٹ کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، یہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اب پنجاب کی سڑکوں پر قانون کی حکمرانی نظر آئے گی یا نہیں، یہ اگلے 30 دن بتائیں گے۔






