
لاہور (10 دسمبر 2025، رات 12:01) حکومت نے سردیوں کے سخت موسم میں عوام کو مہنگائی کا ایک اور “تحفہ” دے دیا ہے۔ نیپرا نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 33 پیسے فی یونٹ اضافہ کر دیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ اضافہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کی ایڈجسٹمنٹ کا حصہ ہے، اور اس سے صارفین پر 6 ارب روپے سے زائد کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔ یہ رقم دسمبر سے فروری 2026 تک کے بلوں میں وصول کی جائے گی۔ یہ اضافہ تمام ڈسکوز کے صارفین، سرکاری اداروں اور کے الیکٹرک صارفین پر بھی लागو ہوگا، اور وفاقی حکومت کو نوٹیفکیشن حتمی منظوری کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ پاور ڈویژن نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
دوسری جانب نیپرا نے ایک ماہ کے لیے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں بجلی 88 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کا بھی نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جو دسمبر 2025 کے بلوں میں ریلیف دے گا۔ یہ رعایت تمام ڈسکوز اور کے الیکٹرک صارفین کو ملے گی، مگر لائف لائن صارفین اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف 88 پیسے کی عارضی سستی اور دوسری طرف 33 پیسے کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ سے نیٹ ریلیف محدود رہے گا، جبکہ مجموعی طور پر بجلی کی قیمتیں اب بھی عوام کی قوت خرید سے باہر ہیں۔
یہ فیصلے ایسے وقت میں آئے ہیں جب سردیوں میں بجلی کی طلب بڑھ رہی ہے، اور عوام پہلے ہی گیس کی قلت اور مہنگائی سے پریشان ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت ریلیف کی بجائے مسلسل بوجھ ڈال رہی ہے۔






