پٹرول 47 روپے، ڈیزل 50 روپے مہنگا ہونے کا خطرہ؛ آئی ایم ایف کی 18% سیلز ٹیکس شرط، ڈیلرز نے پمپس بند کرنے کی دھمکی دے دی

لاہور (12 دسمبر 2025، رات 10:15) آئی ایم ایف کے سخت مطالبے نے عوام کی جیبوں پر ایک اور بم گرا دیا ہے۔ وزارت پیٹرولیم کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ آئی ایم ایف نے کاسٹ ریکوری کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد کرنے کی شرط لگا دی ہے، جس پر عملدرآمد ہوا تو پیٹرول کی قیمت میں 47 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل میں 50 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو جائے گا۔ حکومت نے صرف 2 فیصد ٹیکس کی تجویز دی تھی، مگر آئی ایم ایف نے اسے مسترد کر دیا، اور اب 18 فیصد ٹیکس نافذ ہونے کا قوی امکان ہے، جو سردیوں میں پہلے ہی مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے تباہی کا پیغام ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی طرف سے دیے گئے مارجن کو مسترد کرتے ہوئے ملک بھر میں پمپس بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ چیئرمین عبد السمیع خان نے کہا کہ ڈیلرز نے 8 فیصد مارجن مانگا تھا، مگر موجودہ 3.12 فیصد پر کام ناممکن ہے۔ انہوں نے حکومت کو 10 دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے کہ مارجن 8 فیصد کیا جائے، ورنہ کور کمیٹی اجلاس میں پمپس بند کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ حکومت قسطوں میں بھی 8 فیصد کر دے تو مان لیں گے، مگر موجودہ حالات میں کاروبار چلانا ممکن نہیں۔

یہ دونوں بحران ایک ساتھ آئے تو جنوری 2026 میں پٹرول 300 روپے اور ڈیزل 330 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتا ہے، جو ٹرانسپورٹ، کسانوں اور عام صارفین کی کمر توڑ دے گا۔ عوام پہلے ہی حالیہ 33 پیسے کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ سے پریشان ہیں، اور اب آئی ایم ایف کی نئی شرط اور ڈیلرز کی ہڑتال کا خطرہ مہنگائی کو آسمان پر پہنچا سکتا ہے۔