سڈنی کے بونڈائی بیچ پر دہشت گرد فائرنگ؛ ہلاکتوں کی تعداد 15 سے 16، حملہ آور باپ بیٹا، آسٹریلیا میں قومی سوگ کا اعلان

سڈنی (15 دسمبر 2025) آسٹریلیا کے مشہور بونڈائی بیچ پر ہنوکھا (حنوکہ) کی پہلی رات کی جشن “چانوکا بائی دی سی” کے دوران باپ بیٹے نے اندھا دھند فائرنگ کر کے 15 سے 16 افراد کو ہلاک اور 40 سے زائد کو زخمی کر دیا، جسے آسٹریلوی حکام نے “یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے والا دہشت گرد حملہ” قرار دے دیا ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک 10 سالہ بچی، ایک ہولوکاسٹ سروائیور، چباد کا ربی ایلی شلینجر اور دیگر آسٹریلوی شہری شامل ہیں۔ حملہ آور باپ ساجد اکرم (50 سال) پولیس فائرنگ میں مارا گیا، جبکہ بیٹا نوید اکرم (24 سال) شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں پولیس حراست میں ہے۔ پولیس نے جائے وقوع سے 6 قانونی ہتھیار اور 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات برآمد کیے ہیں، اور حملہ آوروں کی گاڑی میں آئی ایس آئی ایس پرچم بھی ملا ہے۔

نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے تصدیق کی کہ حملہ آور کافی عرصے سے آسٹریلیا میں مقیم تھے، ساجد کے پاس 10 سال پرانا گن لائسنس تھا اور وہ ایک گن کلب کا رکن تھا۔ نوید کو 2019 میں آسٹریلوی انٹیلیجنس ایجنسی ASIO نے آئی ایس سے روابط کی وجہ سے چیک کیا تھا۔ آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے اسے “خالص یہود دشمنی کا حملہ” قرار دیتے ہوئے قومی سوگ کا اعلان کر دیا، سرکاری عمارتوں پر پرچم سرنگوں رہیں گے، اور سخت سیکیورٹی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عالمی رہنماوں نے حملے کی مذمت کی ہے، اور یہودی کمیونٹی کے لیے یہ آسٹریلیا کی تاریخ کا بدترین حملہ ہے۔ تحقیقات جاری ہیں، مگر محرکات ابھی واضح نہیں۔