
لاہور (14 دسمبر 2025، شام 8:47) محسن نقوی کے چیئرمین پی سی بی بننے کے بعد پاکستان کرکٹ کی کارکردگی پر سوال اٹھنے کا سلسلہ جاری ہے، اور اب ون ڈے کرکٹ میں پاور پلے کی سست بیٹنگ نے ایک اور تشویشناک ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ 2023 ورلڈ کپ کے اختتام کے بعد سے پاکستان کی ون ڈے اننگز میں پاور پلے کا اسکورنگ ریٹ صرف 4.54 رنز فی اوور رہا ہے، جبکہ پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے یہ شرح 4.30 ہے اور اوسطاً 2 وکٹیں گرتی ہیں۔ تمام 24 اننگز میں سے صرف 3 بار ٹیم 6 رنز فی اوور یا اس سے زیادہ کی شرح سے آگے بڑھ سکی، جو جدید ون ڈے کرکٹ کے جارحانہ آغاز سے بالکل پیچھے ہے۔
پہلے بیٹنگ کرنے والی 9 اننگز میں سے 6 میں پاکستان نے پاور پلے میں 2 یا اس سے زیادہ وکٹیں گنوائیں، جس کی وجہ سے ٹیم مضبوط بنیاد قائم کرنے میں ناکام رہی اور بڑے ٹوٹلز نہ بنا سکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی ارادے کی کمی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں دیگر ٹیمیں پاور پلے میں تیز اسکورنگ کر کے میچ پر قبضہ جماتی ہیں، مگر پاکستان اب بھی دفاعی انداز میں کھیل رہا ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف ون ڈے بلکہ ٹی20 میں بھی نظر آ رہا ہے، جو ٹیم کی مجموعی بیٹنگ اپروچ کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ اعداد و شمار محسن نقوی دور کی دیگر ناکامیوں کی یاد تازہ کرتے ہیں، جہاں ٹی20 ورلڈ کپ میں امریکا اور آئرلینڈ سے شکست، ہوم گراؤنڈ پر ویسٹ انڈیز سے ٹیسٹ سیریز ہار، بنگلہ دیش سے ٹیسٹ وائٹ واش اور ٹی20 سیریز میں شکست، اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں آخری نمبر شامل ہیں۔ شائقین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ زوال تکنیکی، حکمت عملی اور قیادت کی سطح پر مسائل کی وجہ سے ہے، جو پاکستان کرکٹ کو خطے کی دیگر ٹیموں سے پیچھے چھوڑ رہا ہے۔






