60 سال بعد کولڈ وار کی امریکی خفیہ کارروائی بے نقاب؛ نندا دیوی پر چین کی جاسوسی کے لیے پلوٹونیم ڈیوائس نصب کرنے کی ناکام کوشش

واشنگٹن (15 دسمبر 2025، رات 10:41) کولڈ وار کے دور کی ایک حیران کن خفیہ کارروائی تقریباً 60 سال بعد منظر عام پر آ گئی ہے۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 1965 میں سی آئی اے نے بھارتی کوہ پیماؤں کے ساتھ مل کر ہمالیہ کی چوٹی نندا دیوی پر چین کے ایٹمی پروگرام کی نگرانی کے لیے پلوٹونیم سے چلنے والا جاسوسی آلہ نصب کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ آلہ تقریباً 7 فٹ لمبا اور 6 ایٹمی کیپسولز پر مشتمل تھا، جو چین کی میزائل سرگرمیوں کی نگرانی کر سکتا تھا۔ مگر شدید برفانی طوفان کی وجہ سے مشن ادھورا رہ گیا اور ٹیم کو واپس لوٹنا پڑا۔ اگلے سال جب ٹیم دوبارہ پہنچی تو آلہ برفانی تودے میں کہیں غائب ہو چکا تھا، اور آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

1978 میں جب یہ خفیہ آپریشن عوامی طور پر سامنے آیا تو بھارت میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی، کیونکہ یہ بھارتی سرزمین پر امریکی خفیہ کارروائی تھی۔ آج بھی بھارتی سیاستدان، ماحولیاتی کارکن اور مقامی لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس ایٹمی ڈیوائس کو تلاش کر کے محفوظ طریقے سے ہٹایا جائے، کیونکہ پلوٹونیم کی ریڈی ایشن ماحولیاتی تباہی اور گنگا کے پانی کو آلودہ کرنے کا خطرہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ آلہ پگھل کر پانی میں شامل ہو گیا تو یہ ایک “ایٹمی حادثہ” بن سکتا ہے۔

یہ واقعہ کولڈ وار کی اس جنونی دوڑ کی عکاسی کرتا ہے جہاں امریکہ اور سوویت یونین ایک دوسرے پر نظر رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے تھے۔ سی آئی اے نے اس مشن کے لیے بھارتی انٹیلیجنس کے ساتھ مل کر کام کیا تھا، مگر ناکامی کے بعد یہ راز دفن ہو گیا تھا۔ اب اس کی بازگشت ایک بار پھر بھارت اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے تناظر میں سنائی دے رہی ہے۔