
لاہور (15 دسمبر 2025، شام 7:19) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کا 31واں اجلاس منعقد ہوا، جس میں شفافیت، تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور عوامی سہولت کے لیے درجنوں اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے سخت لہجے میں کہا کہ “ایک پائی کی کرپشن بھی برداشت نہیں کروں گی، سرکاری خزانہ عوام کی امانت ہے، فنڈز کے استعمال پر ہم سب اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہیں”، اور ہر محکمے کو تین ماہ میں ملازمین کی انکوائری مکمل کرنے کا پابند کر دیا۔ انہوں نے گندم کاشت کا ہدف بروقت پورا کرنے پر وزیر زراعت عاشق کرمانی اور ڈی جی پی ایچ اے راجہ منصور احمد خان کی ٹیم کو شاباش دی۔
اجلاس میں روڈ سیفٹی اور ٹریفک مینجمنٹ پر خصوصی توجہ دی گئی، جدید ٹریفک لائٹس کی تنصیب کی منظوری دی گئی، ہر سڑک پر زیبرا کراسنگ بنانے اور ہر شہر کی ہر سڑک کے گڑھوں کو فوری پُر کرنے کا حکم دیا گیا۔ ٹریفک قواعد کی پاسداری پر غیر قانونی لائٹس روکنے والے وارڈن کو ایک لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا گیا۔ راولپنڈی میں پنجاب کا دوسرا بڑا آئی ٹی سٹی بنانے، ایک سال میں 2300 نوجوانوں کو سکل پروفیشنل بنانے، امتحانی نظام کو شفاف بنانے کے لیے پہلی خودمختار امتحانی اتھارٹی قائم کرنے، سرکاری سکولوں کے ہیڈ ٹیچرز کا الاؤنس 500 سے 10 ہزار روپے کرنے اور لائیو سٹاک کو کمپنی بنا کر مویشی ایکسپورٹ کا ہدف دینے کی منظوری دی گئی۔
صحت کے شعبے میں گوجرانوالہ میں مریم نواز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، چیچہ وطنی سے شورکوٹ تک 46 کلومیٹر سڑک کی تعمیر، ہولی فیملی ہسپتال فیصل آباد کے لیے آلات کی خریداری اور 100 بیڈز مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال مری کو جنرل ہسپتال میں تبدیل کرنے کی منظوری دی گئی۔ امام مسجد صاحبان کو اعزازیہ، آٹزم سکول کے لیے 484 ملین بجٹ، مساجد و مدارس کے لیے 742 ملین اور متعدد میڈیکل، تعلیمی اور انفراسٹرکچر پراجیکٹس بھی منظور ہوئے۔ اجلاس میں متعدد قوانین میں ترامیم، نئی اتھارٹیز کے قیام اور بھرتیوں میں نرمی کی بھی منظوری دی گئی۔ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب کو تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی اور روزگار میں نمبر ون بنانا ہے، اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔






