
لاہور (15 دسمبر 2025) سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والا دعویٰ کہ پنجاب حکومت نے فوتگی پر کھانا تیار کرنے، تقسیم کرنے یا اجتماعات منعقد کرنے پر پابندی لگا دی ہے اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، بالکل جھوٹا اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔ پنجاب کی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے اس دعوے کو “فیک نیوز” قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا کہ حکومت کی طرف سے فوتگی پر کھانا دینے یا اس سے متعلق کسی بھی روایت پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی، نہ ہی کوئی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایسی افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ اطلاعات پر یقین کریں۔
یہ وائرل پیغام گزشتہ چند دنوں میں بڑے پیمانے پر پھیلا تھا، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ضلعی حکام جلد ہی اس “پابندی” کو نافذ کریں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اس افواہ نے عوام میں الجھن اور تشویش پیدا کر دی تھی، خاص طور پر ثقافتی اور مذہبی روایات سے جڑے لوگوں میں۔ تاہم وزیر اطلاعات کی وضاحت کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ محض ایک غلط فہمی یا جان بوجھ کر پھیلائی گئی جھوٹی خبر تھی، اور پنجاب حکومت کی طرف سے ایسی کوئی پالیسی یا نوٹیفکیشن موجود نہیں۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر آنے والی ہر خبر کی تصدیق کریں تاکہ افواہوں کا شکار نہ ہوں۔






