
واشنگٹن (15 دسمبر 2025، شام 7:25) ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی ویزہ پالیسیوں کو مزید سخت کرتے ہوئے H-1B (ہائی سکلڈ ورکرز) اور H-4 (ان کے اہل خانہ) ویزہ درخواست گزاروں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی اسکریننگ لازمی قرار دے دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے تمام درخواست دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے فیس بک، ٹوئٹر (X)، انسٹاگرام، لنکڈ ان اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پرائیویسی سیٹنگز پبلک پر رکھیں تاکہ قونصلر افسران ان کی پوسٹس، لائکس، شیئرز اور کمنٹس کا مکمل جائزہ لے سکیں۔ یہ قدم طلبہ (F، M) اور ایکسچینج وزیٹرز (J) ویزوں کی پہلے سے جاری اسکریننگ کی توسیع ہے، اور اب ٹیک، انجینئرنگ اور دیگر پروفیشنلز پر بھی लागو ہوگا۔
محکمہ خارجہ کا بیان ہے کہ “ویزا ایک سہولت ہے، حق نہیں، اور قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے لیے دستیاب تمام معلومات استعمال کی جاتی ہیں”۔ افسران اب درخواست دہندگان کی آن لائن سرگرمیوں سے یہ چیک کریں گے کہ آیا وہ امریکہ مخالف، یہود مخالف، دہشت گردی کی ترویج یا دیگر “ناقابل قبول” مواد میں ملوث تو نہیں۔ اگر کوئی ایسی پوسٹ ملی تو ویزہ مسترد ہو سکتا ہے۔ یہ پالیسی ٹرمپ کی “امریکہ فرسٹ” اور قومی سلامتی کی ترجیحات کا حصہ ہے، جو حالیہ سڈنی حملے جیسے واقعات کے بعد مزید تیز ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سختی ہندوستان، چین اور پاکستان سے آنے والے لاکھوں ہائی سکلڈ پروفیشنلز کو متاثر کرے گی، جہاں H-1B ویزوں کی بڑی تعداد جاری ہوتی ہے۔ ٹیک کمپنیاں جیسے گوگل، مائیکروسافٹ اور ایمیزون کو انسانی وسائل کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ درخواست دہندگان کو اپنی پرانی پوسٹس ڈیلیٹ کرنے یا اکاؤنٹس پرائیویٹ کرنے کی بجائے پبلک رکھنے کی مجبوری ہوگی۔ انسانی حقوق گروپس نے اسے “اظہار رائے کی آزادی پر حملہ” قرار دیا ہے۔






