نیٹ میٹرنگ مرحلہ وار ختم، نیٹ بلنگ نظام متعارف؛ حکومت کا سولر صارفین پر بوجھ کم کرنے کا پلان

اسلام آباد (17 دسمبر 2025) وفاقی حکومت نے نیٹ میٹرنگ سسٹم کو مرحلہ وار ختم کر کے اس کی جگہ نیٹ بلنگ نظام متعارف کرانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اس پر باضابطہ ورکنگ شروع کر دی ہے اور تمام سٹیک ہولڈرز (سولر صارفین، ڈسکوز، انڈسٹری) سے مشاورت کے بعد حتمی قواعد و ضوابط کا اعلان کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے نظام کا اطلاق ابتدائی طور پر نئے سولر صارفین پر ہوگا، جبکہ موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین کو مرحلہ وار منتقل کیا جائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ سے پاور سیکٹر پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے، کیونکہ سولر صارفین اضافی بجلی گرڈ میں شامل کر کے مقررہ نرخ پر ایڈجسٹمنٹ لے رہے ہیں، جو قومی گرڈ کی لاگت بڑھا رہا ہے۔ نیٹ بلنگ میں صارفین اضافی بجلی کی فروخت پر کم نرخ حاصل کریں گے، جس سے بجلی کے نرخوں میں توازن آئے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی گھریلو اور کمرشل سطح پر سولر تنصیب کے رجحان کو شدید دھچکہ پہنچا سکتی ہے، کیونکہ نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے لوگ سولر پینلز لگوا رہے تھے تاکہ بل کم ہو، مگر نیٹ بلنگ سے ریٹرن کم ہو جائے گا اور سولر انڈسٹری متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم قومی گرڈ پر بوجھ کم کرے گا اور بجلی کی قیمتوں کو مستحکم رکھے گا۔ حتمی نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔

ادھر عوام کے لیے ایک چھوٹی خوشخبری یہ ہے کہ نومبر کی ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (FCA) کے تحت بجلی 72 پیسے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی درخواست پر نیپرا 31 دسمبر کو سماعت کرے گی، اور منظوری کی صورت میں یہ ریلیف جنوری کے بلوں میں ملے گا۔