
اسلام آباد (17 دسمبر 2025) پاکستانی فوج کو اس وقت متعدد امتحانوں کا سامنا ہے، جن میں سے ایک امریکہ کی طرف سے غزہ اسٹیبلائزیشن فورس میں فوجی بھیجنے کا دباؤ ہے۔ ڈی ڈبلیو اردو کی رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ آنے والے ہفتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن جائیں گے، جو چھ ماہ میں ان کی تیسری ملاقات ہوگی۔ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ منصوبے میں جنگ زدہ فلسطینی علاقوں کی تعمیر نو اور اقتصادی بحالی کے لیے مسلم ممالک سے ایک فورس طلب کی گئی ہے، جو امن کی نگرانی کے ساتھ حماس کے خاتمے میں بھی کردار ادا کرے گی۔ تاہم یہ قدم مسلم ممالک کے لیے مسائل کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ حماس کو غیر مسلح کرنے کا حصہ بننا فلسطین کی حمایت کرنے والی عوام کو مشتعل کر سکتا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان برسوں کی بداعتمادی کو دور کرنے کے لیے ٹرمپ کے ساتھ قریبی روابط استوار کیے ہیں، اور جون میں انہیں وائٹ ہاؤس میں خصوصی دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا گیا تھا، جو کسی پاکستانی آرمی چیف کے لیے پہلا موقع تھا جہاں امریکی صدر نے سویلین حکام کے بغیر میزبانی کی۔ اٹلانٹک کونسل کے ماہر مائیکل کوگل مین نے کہا کہ اس فورس کا حصہ نہ بننے سے ٹرمپ ناراض ہو سکتے ہیں، جو پاکستان کے لیے بڑا خطرہ ہے، کیونکہ اسلام آباد امریکہ کی “گڈ بکس” میں رہنا چاہتا ہے۔
اندرونی سطح پر یہ فیصلہ پاکستان کے لیے سنگین چیلنج ہے، کیونکہ سخت گیر اسلام پسند جماعتیں جو غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی شدید مخالفت کرتی ہیں، اسے قبول نہیں کریں گی، اور یہ ملک میں اندرونی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ نے کہا کہ پاکستان کی فوجی طاقت کو طلب کرنے کا مطلب ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر پر اپنی صلاحیتوں کے استعمال کے لیے زیادہ دباؤ ہوگا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اسلام آباد امن کے لیے غزہ میں فوج بھیج سکتا ہے، مگر حماس کو غیر مسلح کرنا “ہمارا کام نہیں”۔
عاصم منیر کو اس ماہ کے شروع میں دفاعی افواج کے سربراہ کے طور پر 2030 تک توسیع ملی ہے، اور قانون میں ترمیم سے وہ اپنا فیلڈ مارشل کا خطاب ہمیشہ رکھ سکتے ہیں اور فوجداری مقدمات سے تاحیات استثنیٰ رکھتے ہیں۔ کوگل مین نے کہا کہ پاکستان میں کم ہی لوگ عاصم منیر کے خلاف جانے کا حوصلہ رکھتے ہیں، ان کے پاس بے تحاشہ طاقت اور آئینی حفاظت ہے۔ عاصم منیر نے حال ہی میں انڈونیشیا، ملائیشیا، سعودی عرب، ترکی، اردن، مصر اور قطر کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں، جو اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کی تیاری کا اشارہ دیتی ہیں۔
یہ صورتحال پاکستان کے لیے نازک ہے، کیونکہ امریکہ سے تعلقات بہتر رکھنے کی ضرورت ہے مگر اندرونی سیاسی اور مذہبی دباؤ بھی شدید ہے۔






