
واشنگٹن (17 دسمبر 2025) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے ایٹمی پروگرام کو مکمل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ مشرق وسطی میں امن قائم ہو چکا ہے۔ انہوں نے سڈنی کے بونڈائی بیچ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی، جس میں 16 افراد ہلاک ہوئے، اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ میں اسرائیل کی حمایت کم ہوئی ہے اور کانگریس میں یہود مخالف لابیاں سرگرم ہیں، جبکہ ماضی میں “سب سے طاقتور یہودی لابی” تھی جو اب نہیں رہی۔ انہوں نے امریکی قوم کو دہشت گردی کے خلاف متحد رہنے کی اپیل کی۔
غزہ میں استحکام فورس کے حوالے سے ٹرمپ نے بتایا کہ 59 ممالک اس میں شمولیت چاہتے ہیں، حماس نے اسرائیلی قیدی اور لاشیں حوالے کر دی ہیں اور حماس کو غیر مسلح کرنے کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب عالمی سطح پر سڈنی حملے کی مذمت ہو رہی ہے اور غزہ میں امن عمل جاری ہے۔ ٹرمپ نے اپنے اقدامات کو مشرق وسطی میں امن کی بنیاد قرار دیا، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران ایٹمی پروگرام کے دعوے پر اب بھی تنازعات ہیں اور یہودی لابی کی کمزوری کا بیان امریکی سیاست میں نئی بحث چھیڑ سکتا ہے۔
یہ تقریر وائٹ ہاؤس کی ہانوکا پارٹی یا اسی طرح کی تقریب میں ہوئی، جہاں ٹرمپ نے یہود کمیونٹی سے خطاب کیا اور انسداد یہود دشمنی پر زور دیا۔






