پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر تباہی کے دہانے پر؛ ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی اور گیس کی وجہ سے 144 ملز بند، برآمدات میں 3.83 فیصد کمی

لاہور (19 دسمبر 2025) پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا زرمبادلہ کمانے والا سیکٹر ٹیکسٹائل اب مکمل تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے چیئرمین کامران ارشد نے انکشاف کیا ہے کہ ٹیکسوں کی بھرمار، انتہائی مہنگی بجلی اور گیس کی وجہ سے ملک بھر میں 144 سے زیادہ ٹیکسٹائل ملز بند ہو چکی ہیں، اور جو ملز ابھی چل رہی ہیں، وہ سسک سسک کر چل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے خطے میں سب سے مہنگی بجلی اور گیس پاکستان میں ہے، جس کی وجہ سے کئی ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان چھوڑ کر جا رہی ہیں، اور یہ صورتحال لمحہ فکریہ ہے۔

پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے بھی برآمدات میں نمایاں کمی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کونسل کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں برآمدات 3.83 فیصد کم ہو کر 7.61 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ ستمبر میں 11.71 فیصد کی کمی کے ساتھ صرف 2.51 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔ اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلا کہ گل احمد ٹیکسٹائل نے اپنا ایکسپورٹ اپیرل سیگمنٹ بند کر دیا، جس سے ہزاروں ملازمین متاثر ہوئے۔ پروکٹر اینڈ گیمبل، مائیکروسافٹ، شیل سمیت دیگر عالمی کمپنیاں بھی پاکستان سے نکل چکی ہیں یا آپریشنز محدود کر رہی ہیں۔ ٹیکسٹائل کونسل نے حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مزید صنعتوں کی بندش اور سرمایہ کاری میں کمی کا خطرہ ہے۔

یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی معیشت پہلے ہی قرضوں، مہنگائی اور توانائی بحران سے دوچار ہے، اور ٹیکسٹائل سیکٹر کی تباہی قومی معیشت کو شدید دھچکا دے سکتی ہے۔