
پشاور (8 جنوری 2026) مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پنجاب حکومت کی گندم پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کی ناقص کارکردگی کی سزا پورے پاکستان کو بھگتنی پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ گندم 3000 روپے فی من کے حساب سے ریلیز کر رہی ہے، مگر مارکیٹ میں گندم 4600 روپے فی من پر بھی دستیاب نہیں۔ غریب کسان سے 2200 روپے میں خریدی گئی گندم اب کہاں غائب ہو گئی؟ پہلے یہ بتایا جائے کہ گندم کس نے خریدی، کس نے سٹور کی اور اب کس کو ریلیز کی جا رہی ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ ن لیگ حکومت میں چینی اور آٹا مافیا کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ پنجاب حکومت کا دعویٰ ہے کہ 10 کلو آٹے کا تھیلا 900 روپے میں دستیاب ہے، مگر بتائیں یہ کہاں مل رہا ہے؟ آٹے کی مارکیٹ کا ریٹ پنجاب سے کھلتا ہے، اور اب راولپنڈی، اسلام آباد، اٹک اور پشاور میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2800 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ آٹے کی بلیک مارکیٹ کی ذمہ داری وفاقی اور پنجاب حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
یہ بیان گندم اور آٹے کے بحران کے تناظر میں آیا ہے، جہاں عوام مہنگائی سے شدید متاثر ہیں اور پنجاب حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے واضح کیا کہ پنجاب کی غلط پالیسیوں کا اثر پورے ملک پر پڑ رہا ہے۔






