
“Image Source: UrduPoint.com
اسلام آباد (11 جنوری 2026) پاکستان تحریک انصاف نے سندھ حکومت پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور ان کے وفد کو حیدرآباد سے واپسی پر موٹروے پر دانستہ طور پر روکا گیا، راستے بند کیے گئے، اور 2 گھنٹے کا سفر 8 گھنٹوں میں طے کرایا گیا۔ ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ طرز عمل اس نام نہاد استقبال کی حقیقت بے نقاب کرتا ہے جس کا کریڈٹ سندھ حکومت اور اس کے ترجمان لینے کی کوشش کرتے رہے۔ مہمان نوازی یہ نہیں ہوتی کہ مہمانوں کو راستوں میں تنگ کیا جائے اور رکاوٹیں ڈالی جائیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جلسے کے لیے این او سی غیر معمولی تاخیر سے شام 6 سے 7 بجے کے درمیان جاری کی گئی، اور تیاریاں جاری تھیں کہ رات کی تاریکی میں سندھ پولیس نے باغ جناح میں نہتے کارکنان پر لاٹھی چارج کیا، گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور درجنوں کو گرفتار کر لیا۔ اب جلسہ گاہ کے اطراف تمام سڑکیں سیل کر دی گئی ہیں اور کارکنان کے گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ سب کھلی فسطائیت، سیاسی انتقام اور آئینی حقوق کی پامالی ہے۔
پی ٹی آئی نے سندھ حکومت کی دوغلی پالیسی اور جعلی اعلانات کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے نہ عوام ڈر سکتے ہیں اور نہ عمران خان کی تحریک روکی جا سکتی ہے۔ کراچی اور گردونواح کے عوام کو دعوت دی گئی ہے کہ باغ جناح میں ہونے والے جلسے میں بڑی تعداد میں شرکت کریں اور حقیقی آزادی کی تحریک میں حصہ لیں۔






