
لاہور (12 جنوری 2026) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جے یو آئی ڈیجیٹل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرسی پر بیٹھے حکمران ڈمی بھی ہیں اور صرف گالیاں کھانے کے لیے بٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے 27ویں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم نے واضح کر دیا ہے کہ ملک میں جنگ نظریات کی نہیں، بلکہ اتھارٹی کی ہے۔ سول سپر میسی اور پارلیمنٹ کی بالادستی ختم ہو چکی ہے، اب فیصلے پنڈی میں ہوں گے، مگر عوام کو اس کا احساس تک نہیں۔
مولانا نے کہا کہ آج بھی اسلامی نظام کے علاوہ کوئی ایسا نظام نہیں جو حقیقی انصاف فراہم کر سکے۔ انہوں نے نوآبادیاتی دور، سرمایہ داریت، کمیونزم اور جمہوریت کے زوال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طاقت اور سرمایہ رکھنے والا جو چاہے کر رہا ہے۔ پاکستان میں بھی جمہوریت ایک ڈھونگ بن چکی ہے، انتخابات کے نتائج دفتروں میں بیٹھ کر تیار کیے جاتے ہیں، اور کوئی بھی حکومت حقیقی معنوں میں منتخب نہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دنیا میں کہیں کسی کو زندگی بھر قانون سے استثنیٰ دیا جاتا ہے؟ رسول ﷺ اور حضرت عمر نے خود کو مستثنیٰ نہیں قرار دیا، مگر ہمارا صدر مملکت زندگی بھر کیس بھگتتا رہا اور اب اسے استثنیٰ دیا جا رہا ہے۔ سوچ صرف یہ ہے کہ گرفت مضبوط ہو، مراعات چلتی رہیں اور قانون سے استثنیٰ مل جائے۔ آج کوئی پاکستان کا وفادار ہو، اس کی وفاداری کی کوئی قیمت نہیں جب تک وہ ان کا وفادار نہ ہو۔
یہ بیان پاکستان کی موجودہ سیاسی اور عدالتی صورتحال پر مولانا فضل الرحمان کی سخت ترین تنقید ہے، جس میں انہوں نے طاقت کے نظام اور ڈھونگ جمہوریت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔






