
اسلام آباد (13 جنوری 2026) وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشیئرز کے پگھلنے میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے، اور 1960 سے اب تک 23 فیصد برف ضائع ہو چکی ہے۔ ہمالیہ کے پہاڑوں میں برف پگھلنے کی شرح سالانہ 30 میٹر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سیاچن گلیشیئر 50 سے 60 میٹر سالانہ کی رفتار سے پگھل رہا ہے۔ ہندوکش و ہمالیہ ریجن میں برف پگھلنے کی شرح میں 65 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
انہوں نے ٹاسک فورس برائے نیشنل واٹر سیکیورٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال پاکستان کو پانی کے سنگین اور طویل المدتی بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی پاکستان کے آبی حقوق اور خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، اور اس کا مقصد پاکستان کو پانی کے بحران میں دھکیلنا ہے۔
وزیر نے فوری اقدامات کی ہدایت کی:
- وزارت آبی وسائل کے تحت خصوصی ورکنگ گروپ قائم کیا جائے، جو 51 دن میں قابل عمل سفارشات پیش کرے۔
- پانی کی پالیسیوں کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے فوری ٹیکنیکل ورکشاپ بلائی جائے۔
- وفاق اور صوبوں کے درمیان نیشنل واٹر پالیسی پر مکمل ہم آہنگی بنائی جائے۔
- نئے ڈیمز (دیامر بھاشا اور مہمند) کی تعمیر کو ترجیح دی جائے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کا 80 فیصد پانی دریاؤں سے ملتا ہے، اور بڑھتی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید آبی قلت کا خطرہ ہے۔ دریاؤں کو آلودہ کر کے قیمتی میٹھا پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے۔ واٹر سیکیورٹی ملکی بقا اور خودمختاری کی بنیاد ہے۔ ٹاسک فورس کو مسائل کی تشخیص کے ساتھ فوری حل بھی تجویز کرنے ہوں گے۔
یہ اجلاس پاکستان کے پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے اہم قدم ہے، اور وزیر نے تمام متعلقہ اداروں کو فوری تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔






