وزیر خزانہ کا بڑا اعتراف؛ سرکاری اداروں میں سالانہ 1000 ارب روپے کرپشن ہوتی تھی، 24 ادارے نجکاری کمیشن کو دے دیے

لاہور (14 جنوری 2026) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً 1000 ارب روپے ضائع ہو رہے تھے، اور اسی وجہ سے 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے یوٹیلٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کرنے کی وجہ بھی کرپشن اور سبسڈی کے غلط استعمال کو قرار دیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈیوٹیز بڑھانا معیشت کے لیے نقصان دہ ہے، اس لیے کاروباری لاگت کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی سب سے بڑا خرچہ ہے، مگر گزشتہ سال 850 ارب روپے کی بچت کی گئی اور رواں سال بھی بچت جاری رہے گی۔ آئندہ دو ہفتوں میں پانڈا بانڈز لانچ کیے جائیں گے۔ ایک سروے کے مطابق 73 فیصد سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے حق میں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تجارتی خسارہ بڑھا ہے مگر کرنٹ اکاؤنٹ ہدف کے اندر ہے۔ بڑی صنعتوں کی کارکردگی مثبت رہی ہے، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی 1.1 ٹریلین روپے تک پہنچ چکی ہے، اور اسٹاک مارکیٹ میں 1 لاکھ 35 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے ہیں۔ پاکستان دنیا کی تیسری بڑی فری لانسنگ معیشت ہے، اور نوجوانوں کو سسٹم اور پلیٹ فارم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت کے لیے آبادی پر قابو ضروری ہے، کیونکہ سالانہ 2.55 فیصد اضافہ ترقی میں رکاوٹ ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اصلاحات پر بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے اعتماد ظاہر کیا ہے۔ آئی ایف سی نے 3.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری مکمل کی، اور ریکوڈک منصوبے سے 2028 میں 2.8 ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں۔ ٹیلی نار ٹرانزیکشن میں بھی آئی ایف سی نے 400 ملین ڈالر لگائے ہیں۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔