وزیراعظم شہباز شریف کا پرامید بیان؛ پاکستان ترقی کی اڑان بھرنے کے موڑ پر، مہنگائی 30 فیصد سے کم ہو کر 5.5 فیصد رہ گئی

ڈیووس/اسلام آباد (21 جنوری 2026) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی اقتصادی فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان پویلین میں پاکستان بریک فاسٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اب ترقی کی اڑان بھرنے کے موڑ پر کھڑا ہے۔ انہوں نے زراعت، صنعت، کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی امید ظاہر کی اور کہا کہ حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

وزیراعظم نے اہم معاشی اشاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا:

  • مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 5.5 فیصد رہ گئی ہے۔
  • پالیسی ریٹ 22.5 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد ہو گیا ہے۔
  • جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی کی شرح 10.5 فیصد ہو گئی ہے (پہلے 9 فیصد تھی)۔
  • آئی ٹی برآمدات سالانہ 3 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔
  • نئی کانکنی اور معدنیات کے شعبے میں امریکی اور چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں ہو چکی ہیں۔
  • پاکستان دنیا کی تیسری بڑی فری لانسنگ معیشت ہے، اور نوجوانوں کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے پروگراموں سے بااختیار بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ مضبوط معاشی روابط ہیں اور اب امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات استوار ہو چکے ہیں۔ پی آئی اے کی شفاف نجکاری کے بعد دیگر اداروں کی نجکاری بھی جاری ہے۔ وزیراعظم نے یوٹیلٹی سٹورز، پاسکو اور پی ڈبلیو ڈی جیسے اداروں کو بند کرنے کو درست قرار دیا اور کہا کہ ان سے اربوں روپے کی سبسڈی ضائع ہو رہی تھی۔

انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے، اور اگر بے لوث قربانیوں اور انتھک محنت سے آگے بڑھا جائے تو پاکستان بہت جلد اپنی منزل تک پہنچ جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2047 تک 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے آبادی پر قابو پانا ضروری ہے، کیونکہ سالانہ 2.55 فیصد اضافہ ترقی میں رکاوٹ ہے۔

یہ خطاب پاکستان کی معاشی بحالی اور عالمی سطح پر اعتماد بحال کرنے کی کوششوں کا عکاس ہے۔