جماعت اسلامی کا ٹرمپ کے ‘بورڈ آف پیس’ میں پاکستان کی شمولیت پر سخت ردعمل؛ “یہ نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل ہے، فلسطینیوں کے وسائل پر قبضہ ہے”

لاہور (21 جنوری 2026) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ‘بورڈ آف پیس’ میں پاکستان کی شمولیت کے حکومتی فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ بورڈ نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل ہے، جس میں عراق کو تباہ کرنے والے ٹونی بلیئر جیسے مجرم شامل ہیں۔ تعمیر نو کے نام پر غزہ پر امریکی قبضہ ناقابل قبول ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ وزارت خارجہ کا یہ موقف کہ پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت کی ہے، حقائق کے برعکس ہے۔ ٹرمپ خود کہہ چکا ہے کہ یہ بورڈ ایک دن اقوام متحدہ کی جگہ لے سکتا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کی شمولیت کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی فوج کسی صورت غزہ نہیں جانی چاہیے۔

پریس کانفرنس میں انہوں نے خیبرپختونخوا اور ملحقہ قبائلی اضلاع میں پے درپے ملٹری آپریشنوں پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن عوام کو بے گھر کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ بندوق اور طاقت سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ حکومت مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرے اور سابقہ آپریشنوں کا جائزہ لے کر قوم کو بتائے کہ کتنا امن قائم ہوا۔ جماعت اسلامی پرامن عوام کو گھروں سے نکال کر ذلیل کرنے کی کبھی حمایت نہیں کرے گی۔

انہوں نے شدید سردی میں ضلع تیراہ کے لاکھوں متاثرین کو بے گھر کرنے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو برابر کا ذمہ دار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرف دور سے امریکہ کی ایما پر ڈالروں کے لیے لوگوں کو بے گھر کرنے کی پالیسی چلی آ رہی ہے، اور زرداری، نواز شریف، عمران خان اور اب شہباز شریف کی حکومتیں اسی تسلسل پر گامزن ہیں۔

یہ بیان غزہ امن منصوبے اور خیبرپختونخوا میں جاری آپریشنز پر جماعت اسلامی کے سخت موقف کی عکاسی کرتا ہے۔