شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج؛ چترال میں برفانی تودے سے 9 افراد جاں بحق، این ڈی ایم اے نے 23 سے 29 جنوری تک الرٹ جاری کر دیا

چترال/مری/گلگت (24 جنوری 2026) ملک کے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں مسلسل شدید برفباری سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہو گیا ہے۔ لوئر چترال میں برفانی تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے 9 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ 10 افراد ملبے تلے دب گئے تھے۔ ریسکیو آپریشن کے دوران ایک بچے کو زندہ نکال لیا گیا، اور باقی لاشوں کو ملبے سے نکال کر ورثاء کے حوالے کر دیا گیا۔

آزاد کشمیر کے بالائی علاقوں (وادی نیلم، سدھنوتی، باغ، ہٹیاں بالا، اٹھ مقام اور اپر نیلم) میں رات سے برفباری جاری ہے۔ مظفرآباد میں کئی برس بعد برف پڑی، وادی نیلم میں تین مکانات گر گئے۔ برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ سے اہم شاہراہیں بند اور بجلی کا نظام معطل ہے۔ ضلع حویلی میں ایمبولینس سمیت تقریباً 25 گاڑیاں برف میں پھنس گئیں، پاک فوج نے ریسکیو کر کے 32 مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا، ایمبولینس میں موجود دو میتیں بھی نکالی گئیں۔

خیبرپختونخوا میں وقفے وقفے سے برفباری جاری ہے۔ وادی کاغان میں رابطہ سڑکیں بند ہونے پر سیاحوں کا داخلہ روک دیا گیا اور بالاکوٹ میں روک لیا گیا۔ دیربالا، کمراٹ، لواری ٹنل، باجوڑ اور شانگلہ ٹاپ میں راستے بند رہے۔ شانگلہ ٹاپ میں 22 گھنٹے سے برف میں پھنسے 4 سیاحوں کو ریسکیو کر لیا گیا۔ ملاکنڈ میں کئی برس بعد برفباری ہوئی، بعض مقامات پر درخت سڑکوں پر گر گئے۔

گلگت بلتستان میں شدید برفباری سے چلاس اور اپر کوہستان میں لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہ قراقرم مختلف مقامات پر بند ہو گئی، سیکڑوں مسافر اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں۔ استور میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج اور ضلع کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔ راما میڈوز، دیوسائی، نانگا پربت اور برزل ٹاپ میں 5 سے 6 فٹ برف پڑ چکی ہے۔ مشرف چوک میں برفانی تودہ گرنے سے سڑک بلاک ہو گئی۔ ہنزہ اور نگر میں رابطہ سڑکیں بند ہیں۔

این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے مغربی ہواؤں کے باعث اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں مزید برفباری کی پیش گوئی کرتے ہوئے 23 سے 29 جنوری تک الرٹ جاری کر دیا ہے۔ خاص طور پر گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور شمالی خیبرپختونخواہ متاثر ہوں گے۔ ادارے نے غیر ضروری سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

شہریوں اور سیاحوں سے اپیل ہے کہ برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط برتیں، موسم کی تازہ معلومات حاصل کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ ریسکیو ٹیمیں ہر جگہ الرٹ ہیں۔