
اہم ضابطے اور جرمانے
- پتنگ بازی کے لیے صرف کاٹن کے نو دھاگوں والی ڈور (پنا) استعمال کی جا سکے گی۔
- نائیلون، دھاتی تار یا کوئی بھی خطرناک ڈور استعمال کرنے کی مکمل ممانعت ہے۔
- پتنگ کا سائز 35 انچ اور گڈا 40 انچ سے بڑا نہیں ہو سکتا۔
- 6 سے 8 فروری کے علاوہ کسی بھی دن پتنگ بازی پر جرمانہ اور قید کی سزا ہوگی۔
- ریڈ زون میں سیفٹی راڈ کے بغیر بائیک چلانے پر 2000 روپے جرمانہ۔
- ممنوعہ ڈور یا پتنگ استعمال کرنے پر 5 سال قید اور 5 ملین روپے تک جرمانہ۔
- غیر قانونی پتنگ بازی کرنے والے والدین اور سرپرست قانونی طور پر ذمہ دار ہوں گے اور کارروائی کا سامنا کریں گے۔
- ممنوعہ پتنگ بازی کی اطلاع دینے والے کو انعام دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے واضح کیا کہ یہ تمام اقدامات عوام کی حفاظت کے لیے ہیں، ہمارا کوئی ذاتی مفاد نہیں۔ پتنگ بازی مذاق نہیں، بلکہ جانوں کے تحفظ کا معاملہ ہے۔
دیگر انتظامات
- لاہور کو ریڈ، ییلو اور گرین زون میں تقسیم کیا گیا ہے۔
- 10 لاکھ بائیکوں پر مفت سیفٹی راڈ لگائی جا رہی ہے۔
- 2150 مینوفیکچررز، ٹریڈرز اور دکانداروں کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔
- بسنت سے پہلے 600 سے زائد مقدمات درج اور 641 گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔
- 27 ہزار سے زائد غیر قانونی پتنگیں برآمد کی جا چکی ہیں۔
- 10 ہزار سے زائد ضمانتی بانڈ لیے جا چکے ہیں۔
ٹریفک پلان
- 100 ٹریفک پولیس کیمپ لگائے جائیں گے۔
- ستھرا پنجاب ورکرز کے علاوہ 4000 پولیس اہلکار ڈیوٹی کریں گے۔
- 500 بسیں، اورنج لائن، میٹرو بس، الیکٹرو بس اور فیڈر بس پر مفت سفر۔
- 6000 رکشے اور 24 روٹس پر 60 ہزار رائیڈز۔
- سیف سٹی اور کمشنر آفس میں 24/7 کنٹرول روم قائم۔
- سی سی ٹی وی اور ڈرون سے مکمل مانیٹرنگ۔
- پولیس، فائر بریگیڈ، ایمبولینس اور ہیلتھ پلان فعال۔
وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ ڈس انفارمیشن یا افواہوں پر کان نہ دھریں۔ بسنت عوام کی تفریح اور خوشی کے لیے ہے، ذہن و دل کے ساتھ منائیں۔ 6 فروری کی رات لانچنگ اور 7 فروری سے باقاعدہ آغاز ہوگا۔






