پنجاب کے تمام سکولوں میں اے آئی کا استعمال لازمی قرار؛ گوگل ٹیک ویلی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایڈوائزری بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ

لاہور (27 جنوری 2026) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے تمام سکولوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پنجاب میں گوگل ٹیک ویلی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایڈوائزری بورڈ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

کابینہ کے ارکان کے لیے لاہور میں منعقد ہونے والی آفیشل ورکشاپ “امپاورنگ پنجاب ود اے آئی” کا باقاعدہ آغاز وزیراعلیٰ مریم نواز نے کیا۔ ورکشاپ میں کابینہ ارکان کو گوگل جیمنائی کے مؤثر استعمال پر بریفنگ دی گئی۔ یہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ وزراء کو اے آئی کی باقاعدہ ٹریننگ دی گئی۔

ورکشاپ میں اہم موضوعات

  • گورننس اور پالیسی فریم ورک میں اے آئی کا استعمال
  • آپریشنل پالیسی سازی اور شعبہ جاتی اصلاحات میں اے آئی کی معاونت
  • پالیسی سمری کے تجزیے اور تیاری میں گوگل ٹولز کا استعمال

وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سوچ اور کام کے طریقہ کار کو بدل سکتی ہے۔ اصلاحات اور پالیسی سازی میں اے آئی کی معاونت ناگزیر ہے۔ اے آئی ٹولز کا ذمہ دارانہ استعمال مثبت تبدیلیاں لا سکتا ہے۔

گوگل فار ایجوکیشن کے اہم اقدامات

  • پنجاب میں ٹیک ویلی گوگل فار ایجوکیشن کے پلیٹ فارم پر 3 ہزار اساتذہ کی ماسٹر ٹریننگ جاری ہے۔
  • پنجاب سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں 3 لاکھ سے زائد طلبہ کی سٹوڈنٹ آئی ڈیز قائم کی جا چکی ہیں۔
  • پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت 2 لاکھ طلبہ اور 2 ہزار اساتذہ کو تربیت دی جا رہی ہے۔
  • ڈیجیٹل صحافت کے فروغ کے لیے 10 تنظیموں کے لیے ایک ہزار سکالرشپس فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ اقدامات پنجاب میں تعلیم کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی طرف ایک بڑا قدم ہیں، جس سے طلبہ اور اساتذہ کو جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کا موقع ملے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اے آئی سے تعلیم کا معیار بلند ہوگا اور صوبے کے نوجوانوں کو عالمی سطح پر مقابلے کے لیے تیار کیا جائے گا۔