
لاہور (2 فروری 2026) کرکٹ کے ماہر تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز نے کہا ہے کہ اگر پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں بھارت سے میچ نہ کھیلتا ہے تو بھارت کو تقریباً 14 ہزار کروڑ روپے (تقریباً 500 ملین ڈالر سے زائد) کا نقصان ہو سکتا ہے۔ نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں انہوں نے بتایا کہ پاک-بھارت میچ ٹی20 ورلڈ کپ کا سب سے بڑا ریونیو جنریٹر ہوتا ہے۔
اہم نکات
- بھارتی براڈ کاسٹرز نے اس میچ پر 91 کروڑ 10 لاکھ ڈالر لگائے ہوئے ہیں۔
- آئی سی سی کو انٹرنیشنل ٹورنامنٹ میں بھارت کے ایک چینل سے 10 سیکنڈ کے 20 سے 25 ہزار ڈالر ملتے ہیں۔
- پورے ورلڈ کپ کا ریونیو ایک طرف اور پاک-بھارت میچ کا ریونیو ایک طرف ہوتا ہے۔
- بھارت نے 18 سال سے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ سیریز نہیں کھیلی، لیکن آئی سی سی فریم ورک میں پاکستان کی اہمیت برقرار ہے۔
- بھارت کی بھاری مالی پوزیشن کی وجہ سے آسٹریلیا جیسے ٹیموں کی جیت کاؤنٹ نہیں ہوتی، جے شاہ بیٹھا ہوا ہے۔
- 2027 میں بھارت کے دورے پر نہ جانے کا قانونی جواز بھی ختم ہو جائے گا، پاکستان کا موجودہ فیصلہ دور رس نتائج دے گا۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بائیکاٹ سے بھارت کو براڈکاسٹ حقوق، ایڈورٹائزنگ پریمیئم، اسپانسرشپ ایکٹیویشن، ٹکٹنگ اور قانونی سٹے بازی سمیت دیگر کمرشل سرگرمیوں میں تقریباً 140 ارب روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کی مضبوط پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے بلکہ بھارت اور آئی سی سی کو بھی سوچنے پر مجبور کر دے گا کہ پاک-بھارت میچ کے بغیر ٹورنامنٹ کی کمرشل ویلیو بہت کم ہو جاتی ہے۔ اب سب کی نظریں آئی سی سی کے اگلے ردعمل پر ہیں کہ وہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے خدشات کو کیسے حل کرتا ہے۔
ورلڈ کپ 7 فروری سے شروع ہو رہا ہے، اور یہ معاملہ ابھی بھی نازک ہے۔






