
واشنگٹن (19 فروری 2026) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر پاک-بھارت جنگ کا ذکر کیا اور حیران کن انکشاف کیا کہ جنگ کے دوران دونوں ممالک کے 11 مہنگے طیارے گر چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ “بہت سے لوگوں کو آئیڈیا نہیں کہ پاک-بھارت جنگ میں 11 مہنگے طیارے گر چکے تھے۔ اگر جنگ جاری رہتی تو آگے پتا نہیں کیا ہوتا۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنگ جاری رہتی تو 25 ملین افراد کی جانیں جا سکتی تھیں۔ انہوں نے اپنا کردار ادا کرنے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے دونوں ممالک کو جنگ روکنے پر مجبور کیا۔
ٹرمپ کے اہم بیانات
- “میں نے کہا کہ جنگ کرو گے تو دونوں پر 200 فیصد ٹیرف لگا دوں گا۔”
- “جنگ کے دوران شہباز شریف اور مودی سے فون پر بات ہوئی۔”
- “ایک شخص نے چیخ کر کہا کہ 200 فیصد ٹیرف نہیں لگانا، مگر میں نے مودی کو کہا کہ جنگ نہیں روکی تو بھاری ٹیرف لگا دوں گا۔”
- “دونوں ممالک مزید جنگ چاہتے تھے، لیکن ٹریڈ ڈیل کی وجہ سے رک گئے۔”
- “اگر جنگ ہوتی تو بہت سے پیسوں سے ہاتھ دھونا پڑتا۔”
- “پاکستان اور بھارت طاقتور ایٹمی ملک ہیں، ان میں جنگ ہونا اچھی بات نہیں۔”
شہباز شریف اور عاصم منیر کی تعریف ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی پر شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں، مجھے شہباز شریف بہت پسند ہیں۔ جنگ کے دوران ان کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوئے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو “بہت اعلیٰ سپہ سالار اور زبردست شخصیت” قرار دیا اور کہا کہ “مجھے فائٹر پسند ہیں”۔
یہ خطاب پاک-بھارت جنگ کے خطرے اور ٹرمپ کی مداخلت کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے کردار کو “جنگ روکنے والا” قرار دیا اور دونوں ممالک کو ایٹمی جنگ کے خطرے سے بچانے کا کریڈٹ لیا۔






