
لاہور (19 فروری 2026) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں سکول ایجوکیشن کے شعبے میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ اجلاس میں صوبے کے تمام سکولوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کو لازمی قرار دینے کے علاوہ درج ذیل فیصلے کیے گئے:
اہم فیصلے
- پنجاب کے تمام سکولوں میں ٹیچرز کے لیے ڈریس کوڈ متعارف کرایا جائے گا۔
- تمام سکولوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
- پہلی مرتبہ پنجاب کے سکولوں میں آن لائن پیپر چیکنگ کا سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔
- سکولوں میں صفائی کے لیے ستھرا پنجاب سروسز حاصل کی جائیں گی۔
- سکول ایمپرورومنٹ کارڈ کے ذریعے آؤٹ سورسنگ کے لیے نئی سہولت متعارف کی جائے گی۔
- پنجاب پبلک سکول ری آرگنائزیشن پروگرام کے تحت آؤٹ سورسنگ فیز فور کی منظوری دے دی گئی ہے۔
- پہلی مرتبہ ڈسٹنس لرننگ اور آڈیو ویژول لرننگ شروع کی جائے گی۔
- مارچ تک 140 نواز شریف سکول آف ایمننس پی پی پی موڑ پر فنکشنل ہو جائیں گے۔
- پنجاب کے 344 سکولوں میں 42,614 طلبہ اور 3,566 اساتذہ کو سپوکن کلاسز دی جائیں گی۔
- 5 لاکھ طلبہ کے لیے سپوکن کلاسز شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
- 13 اضلاع میں 11 لاکھ 37 ہزار طلبہ کے لیے سکول میل پروگرام جاری ہے۔
- نئے ایگزامینیشن گریڈ سسٹم کے تحت 15 مارچ سے امتحانات اور 31 مارچ کو رزلٹ کا اعلان ہوگا۔
آؤٹ سورسنگ کے شاندار نتائج
- آؤٹ سورسنگ کے بعد انرولمنٹ میں 800 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔
- فیز ون میں 114 فیصد اور فیز ٹو میں 24 فیصد اضافہ۔
- ٹیچرز کی تعداد میں فیز ون میں 40 فیصد اور فیز ٹو میں 46 فیصد اضافہ۔
- 540 سکولوں میں 866 نئے کلاس روم تعمیر ہوئے۔
- 9,033 کمروں کی تعمیر و مرمت۔
- 5,345 کلاس روم کی مرمت۔
- 27 لاکھ مربع فٹ سے زائد چار دیواری تعمیر و مرمت۔
- 5,067 ٹوائلٹس کی تعمیر و مرمت۔
- 8,911 سکولوں میں پینٹ ورک مکمل۔
- 20 سکولوں کو میٹرک اور 2,219 سکولوں کو ایلیمنٹری لیول تک اپ گریڈ کیا گیا۔
- 1 لاکھ 60 ہزار 450 نئے فرنیچر سیٹ مہیا کیے گئے۔
- 3,665 واٹر ٹینک اور 18,380 واٹر کولر لگائے گئے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ کوشش ہے کہ ہر بچہ سرکاری سکول میں معیاری تعلیم حاصل کرے اور اعتماد سے زندگی سنوارے۔ سرکاری سکولوں کا معیار ایسا بنائیں گے کہ ہر والدین اپنے بچوں کو سرکاری سکول میں داخل کرانا چاہے۔ پنجاب کے ہر سکول کی حالت بہتر بنانا میری ذمہ داری ہے۔
یہ فیصلے پنجاب میں تعلیم کے معیار کو بلند کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے اہم سنگ میل ہیں۔






