
“Image Source: UrduPoint.com
اسلام آباد (22 فروری 2026)
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے کسی ڈیل کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان ریاست مخالف بیانیے سے پیچھے ہٹیں۔ حکومت پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر انگیج کرنا چاہتی ہے، مگر عمران خان بات چیت سے انکاری ہیں۔ ہم نے پارلیمانی کمیٹی بنا کر مذاکرات کی کوشش کی، مگر پی ٹی آئی ارکان نے دوسری میٹنگ میں کہا کہ بس اب نہیں۔
رانا ثناء نے دہشت گردی کے مسئلے پر مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو آن بورڈ لیا گیا ہے۔ دہشت گردوں کے سیف ہیون سے متعلق پالیسی طے ہے، اور حکومت اور عسکری قیادت یکسو ہے۔ افغانستان کو کہا گیا تھا کہ دہشت گردوں اور پاکستان میں سے ایک چوائس کر لیں۔ دہشت گردوں کو مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2 سال مزید ملے تو عالمی اور معاشی محاذ پر آگے نکل جائیں گے۔ ڈیڑھ سال ڈیفالٹ سے بچا گیا ہے، اب وقت ہے کہ حکومت کو سپورٹ کیا جائے۔ پی ٹی آئی کو کبھی ڈیل کی پیشکش نہیں ہوگی، اور عمران خان کو پہلے بھی ہسپتال لایا گیا، آگے بھی لایا جائے گا۔ حکومت نے ان کے علاج میں تعاون کیا ہے۔
یہ بیان عمران خان کی رہائی اور مذاکرات کے تناظر میں اہم ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔






