پاکستان نے ایران سے آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہاز گزرنے کی اجازت کیلئے درخواست کی؛ سیکریٹری پیٹرولیم کی تصدیق

اسلام آباد (16 مارچ 2026)
پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہونے پر ایران سے اجازت طلب کی ہے۔ سیکریٹری پیٹرولیم نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں یہ تصدیق کی۔

سیکریٹری پیٹرولیم کی بریفنگ کے اہم نکات

  • آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت بند ہونے سے پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
  • ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر سے بڑھ کر 187 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
  • پیٹرول کی قیمت 74 ڈالر سے بڑھ کر 130 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
  • عرب ممالک سے تیل 4 سے 5 دنوں میں مل جاتا تھا، اب ریڈ سی راستے سے 12 دن لگ رہے ہیں۔
  • سعودی عرب میں آئل ریفائنری پر حملہ ہوا تو پیداوار بند ہو سکتی ہے۔

موجودہ ذخائر کی صورتحال

  • خام تیل کے ذخائر: 11 دن
  • ڈیزل کے ذخائر: 21 دن
  • پیٹرول کے ذخائر: 27 دن
  • ایل پی جی کے ذخائر: 9 دن
  • جے پی-1 کے ذخائر: 14 دن

یہ ذخائر فی الحال کافی ہیں، مگر صورتحال بگڑنے پر مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

دیگر اہم فیصلے اور تبصرے

  • یورو 5 معیار سے کم کوالٹی کے تیل کی درآمد کی اجازت دے دی گئی ہے۔
  • وزیراعظم کی طرف سے قائم وزارتی کمیٹی روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔
  • آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ کوئی سبسڈی نہ دی جائے، اس لیے ہفتہ وار بنیادوں پر پیٹرولیم قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔
  • سینیٹر منظور احمد نے سوال اٹھایا کہ جب 28 دنوں کے ذخائر تھے تو ریٹ کیوں بڑھایا گیا؟

سیکریٹری پیٹرولیم نے وضاحت کی کہ آبنائے ہرمز سے آمد و رفت بند ہونے اور ریڈ سی راستہ استعمال کرنے کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے۔

یہ صورتحال پاکستان کی توانائی کی سپلائی اور معیشت کے لیے سنگین چیلنج ہے، اور حکومت ایران سے اجازت حاصل کرنے کی کوششیں تیز کر رہی ہے تاکہ تیل کی سپلائی بحال ہو سکے۔